نئی دہلی: اتراکھنڈ میں ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے دوران مسلم ووٹروں کے نام حذف کرنے کی درخواستوں کی خبر منظر عام پر آئی ہے۔ کانگریس نے الزام عائد کیا ہے کہ اسمبلی انتخابات سے قبل بی جے پی ایس آئی آر کے نام پر مسلم ووٹروں کو نشانہ بنا رہی ہے اور ان کے نام ووٹر لسٹ سے ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ کانگریس نے اسے ’ووٹ چوری‘ قرار دیتے ہوئے بی جے پی پر جمہوری عمل کو متاثر کرنے کا الزام لگایا ہے۔
کانگریس نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں نیوز لانڈری کی ایک رپورٹ شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اتراکھنڈ کی 5 اسمبلی نشستوں سے ووٹروں کے نام حذف کرنے کے لیے سب سے زیادہ درخواستیں دینے والے 5 افراد بی جے پی سے وابستہ ہیں۔ پارٹی کے مطابق، ان درخواستوں کے ذریعے بڑی تعداد میں مسلم ووٹروں کے ناموں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
نیوز لانڈری کی 21 اگست کو شائع رپورٹ کے مطابق، ریاست کی 70 اسمبلی نشستوں میں نام حذف کرنے کے لیے سب سے زیادہ اعتراضات درج کرانے والے 5 افراد بی جے پی سے وابستہ پائے گئے۔ ان افراد کی جانب سے دائر درخواستوں کی تعداد 230 سے لے کر 4855 تک رہی، جبکہ 5 میں سے 4 اسمبلی حلقوں میں جن ووٹروں کے نام حذف کرنے کی درخواست دی گئی، وہ تمام مسلم تھے۔
رپورٹ کے مطابق، ادھم سنگھ نگر ضلع کی کِچھا اسمبلی نشست پر نام حذف کرنے کے لیے مجموعی طور پر 4857 اعتراضات درج ہوئے، جن میں سے 4855 درخواستیں راجیش تیواری نامی شخص نے داخل کیں۔ رپورٹ میں انہیں بی جے پی کا بوتھ لیول ایجنٹ بتایا گیا ہے۔ ان درخواستوں کے ذریعے جن ووٹروں کے نام حذف کرنے کی سفارش کی گئی، وہ سب مسلم تھے۔ زیادہ تر درخواستوں میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ متعلقہ ووٹر پہلے ہی کسی دوسری جگہ رجسٹرڈ ہے۔


















