مہاراشٹر کے پونے میں 22 اگست کی شام پوری طرح خواتین کے نام رہا۔ ’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام میں راہل گاندھی کے سامنے کئی طالبات نے بے خوف ہو کر اپنی باتیں رکھیں۔ اس تقریب میں موجود ہزاروں خواتین اس وقت حیران رہ گئیں جب مشہور بھوجپوری گلوکارہ نیہا سنگھ راٹھور اسٹیج پر پہنچیں اور راہل گاندھی سے مخاطب ہوئیں۔ یہ ایک سرپرائز انٹری کی طرح تھی، لیکن نیہا راٹھور نے اسٹیج سے کچھ اہم باتیں لوگوں کے سامنے رکھیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’میں حکومت سے ان تمام ایشوز پر سوال پوچھتی ہوں، جو حکومت کو پسند نہیں آتے۔ اس کے بدلے مجھے ڈھیر ساری گالیاں اور ایف آئی آر جھیلنی پڑتی ہیں۔
نیہا سنگھ راٹھور نے اسٹیج پر اپنی بات رکھنے کی اجازت دینے کے لیے راہل گاندھی کا شکریہ ادا کیا، اور بے باکی کے ساتھ حکومت کے خلاف اپنی بات رکھی۔ انھوں نے کہا کہ ’’جمہوریت میں اگر ہم اپنے وزیر اعظم سے سوال نہیں پوچھ سکتے، تو پھر یہ کیسی آزادی اور کیسی جمہوریت ہے؟‘‘ وہ مزید کہتی ہیں کہ ’’مجھے لگتا ہے کہ ایک خاتون کے لیے سماج میں اپنی شناخت بنانا اور سماجی ایشوز پر کھل کر بولنا بے حد مشکل ہے۔ جیسے ہی کوئی خاتون اپنی آواز اٹھاتی ہے، اس کے سوالوں کا جواب دینے کی جگہ اسے ’کیریکٹر سرٹیفکیٹ‘ دے دیا جاتا ہے۔
نیہا سنگھ راٹھور کے ساتھ ساتھ کئی خواتین نے اپنے تجربات اور زندگی میں پیش آنے والے مسائل راہل گاندھی کے سامنے رکھے۔ آئیے ذیل میں پڑھتے ہیں کس نے اپنی باتیں کن الفاظ میں سامنے رکھیں…
















