اپوزیشن پارٹیوں کے اراکین پارلیمنٹ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے لوک سبھا یا راجیہ سبھا میں حاضر ہو کر طلبا پر ہوئی پولیس بربریت سے متعلق بیان کا مستقل مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس کے لیے دونوں ہی ایوانوں میں آواز اٹھ رہی ہے اور ہنگامہ کی وجہ سے کارروائی رخنہ انداز بھی ہو رہی ہے۔ اپوزیشن لیڈران پارلیمانی احاطہ میں بھی امت شاہ اور پی ایم مودی کے خلاف دھرنا و مظاہرہ کر رہے ہیں، اور یہ سلسلہ آج بھی جاری رہا۔ پارلیمانی احاطہ میں ایک نامہ نگار کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کانگریس رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی نے واضح لفظوں میں کہہ دیا کہ ’’جب تک وزیر داخلہ امت شاہ پارلیمنٹ میں بیان نہیں دیں گے، تب تک ڈیڈلاک (تعطل) جاری ہی رہے گا۔
موجودہ حالات کو دیکھ کر کہا جا سکتا ہے کہ پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے دوران اپوزیشن اور حکومت کے درمیان تعطل مسلسل بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ جب تک وزیر داخلہ طلبا پر بربریت اور رام مندر میں ہوئی چندہ چوری پر ایوان میں وضاحت نہیں دیتے، تب تک اپوزیشن کئی اہم بلوں پر بحث آگے نہیں بڑھنے دے گی۔ کانگریس رکن پارلیمنٹ کے سی وینوگوپال نے اپوزیشن کے مطالبات کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ ’’کسی بھی بل، جس میں ایف سی آر اے بل بھی شامل ہے، پر بحث سے پہلے امت شاہ کو پارلیمنٹ میں آکر دہلی کے طلبا کے خلاف ہوئی کارروائی پر بیان دینا چاہیے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ یہ اپوزیشن کا واضح مطالبہ ہے اور ان کے بیان کے بغیر حکومت کو ان معاملات پر آگے نہیں بڑھنے دیا جائے گا۔
قابل ذکر ہے کہ ایف سی آر اے بل کو لے کر اپوزیشن نے حکومت پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ اس معاملہ میں کانگریس کے رکن پارلیمنٹ پرمود تیواری نے کہا ہے کہ پارٹی اس بل کو ایک بڑے طبقے کے خلاف اٹھائے گئے قدم کے طور پر دیکھتی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مجوزہ تبدیلیاں طبقے اور ملک کے مفادات کے خلاف ہیں اور اس سے تعلیم اور قومی ترقی میں تعاون کرنے والے اہم وسائل پر اثر پڑ سکتا ہے۔

















