نئی دہلی: آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے اقلیتی ڈپارٹمنٹ کے نیشنل میڈیا انچارج سید عدنان اشرف نے کہا کہ جس طرح سے بھارتیہ جنتا پارٹی پورے ملک میں عید کی نماز کے حوالے سے غلط سوچ کے ساتھ منصوبہ بندی کر رہی ہے وہ انتہائی افسوسناک ہے اور جس طرح سے سرکاری افسران اور بی جے پی لیڈروں کی ایماء پر بیانات دیے جا رہے ہیں اس سے پورا ملک اور اقلیتی برادری کے لئے سر درد ہے ۔ عدنان اشرف نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی ایک عرصے سے اقلیتی برادری کو خاص طور پر نشانہ بنا رہی ہے اور افسوس اس بات کا ہے کہ ہمارے وزیرِ اعظم نے خاموشی اختیار کیا ہوا ہے ۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ پوری بھاجپا کی پوری مشینری دن رات اسی کام میں ملوث ہے کہ کس طرح ہندو مسلم اتحاد کو کمزور کر یں۔
انہوں نے کہا کہ اوقاف کو لے کر مسلم تنظیمیں، علمائے دین اور تمام ملی قائدین میٹنگز، پروگرامز، احتجاج، پریس کانفرنس اور مساجد و مدارس سمیت تمام ذرائع و طریقوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اس کے خلاف بڑھ چڑھ کر بیداری مہم چلا رہے ہیں لیکن سرکار میں شامل اپنے آپ کو مسلمانوں کا مسیحا کہنے والی جماعت نتیش کمار کی پارٹی سرکار کو اپنی حمایت دیئے ہوئے ہے اس سے صاف طور پر نتیش کمار کی فرضی ٹوپی پہن کر مسلمانوں کو کب تک دھوکہ دے سکتے ہیں ۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ایسے لوگوں کا چہرہ بے نقاب عوام کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ حسب اختلاف کے لیڈر راہول گاندھی مستقل ملک میں محبت کا پیغام دے رہے ہیں باوجود اس کے کہ بھاجپا اور اس کے لیڈر جتنی نفرت انگیز بات ہو سکتی ہے اس کو سہارا لے کر ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو خراب کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں لیکن مجھے یہ کہتے ہوئے اطمینان ہے کہ آج بھی ہندوستان کی اکثرؓیت اچھے لوگوں پر محیط ہے اور وہ آئین کی پاسداری کرتے ہیں اس لیے ہمارا ملک آج ان تمام کوششوں کے باوجود نفرتیں گینگ کے جھانسہ سے دور ہے ۔
سید عدنان اشرف نے کہا کہ میں مبارکباد دیتا ہوں ملک کی بڑی اقلیت کی آبادی کو کے جس طرح سے صبر و تحمل سے کام لے رہے ہیں یقین جانیے یہ ملک میں امن و امان کو بحال رکھنے میں میل کا پتھر ثابت ہو رہا ہے اور ہمیں اس پاس کے جو ایسے لوگ ہیں جو جمہوریت پر یقین نہیں رکھتے ہیں اور ہر وہ ممکن کوشش کر رہے ہیں اس طرح سے ماحول کو زیادہ آلود زدہ بنایا جائے لیکن ان کے کسی بھی سازش کا شکار نہ ہو کر کے ہمیں ہر حال میں ملک کو مضبوط کرنے کی سعی کرنی ہے اور جو محبت کا پیغام راہول گاندھی جی دے رہے ہیں وہی ہندوستان کے مستقبل کیلئے بہتر ہے –