نئی دہلی:ملیالم سپراسٹار موہن لال کی نئی فلم ’ایل 2: ایمپوران‘ خوب کمائی کر رہی ہے۔ لیکن ساتھ ہی یہ سیاسی تنازعات کے گھیرے میں آ گئی ہے۔ فلم پر 2002 کے گجرات فسادات اور مرکزی جانچ ایجنسیوں کے مبینہ غلط استعمال کا ذکر کیے جانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ اس تنازعہ کے بعد فلم کو ایک سیاسی بحث کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ جہاں ایک طرف کانگریس اور بایاں محاذ کی پارٹیوں کے کچھ لیڈران نے فلم کی تعریف کی ہے، وہیں دوسری طرف ہندوتوا نظریات سے منسلک تنظیموں، یعنی آر ایس ایس اور دایاں محاذ گروپوں نے فلم کی شدید مذمت کی ہے۔
غور کرنے والی بات یہ ہے کہ کیرالہ میں برسراقتدار ایل ڈی ایف (لیفٹ ڈیموکریٹک فرنٹ) اور اپوزیشن کانگریس، دونوں ہی فلم کی تعریف کر رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ فلم دایاں محاذ کے سیاسی ایجنڈے کو سامنے لاتی ہے۔ دوسری طرف دایاں محاذ تنظیموں نے اس پر سخت اعتراض ظاہر کرتے ہوئے اسے ’ہندو مخالف‘ اور ’ہندو مذہب کو بدنام کرنے والی تشہیر‘ بتایا ہے۔ انگریزی روزنامہ ’انڈین ایکسپریس‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق کیرالہ یوتھ کانگریس کے صدر اور پلکڑ سے رکن اسمبلی راہل ممکوٹ ٹتھل نے موہن لال اور ہدایت کار پرتھوی راج سوکومارن کے خلاف احتجاج کو نامناسب قرار دیا۔
راہل نے فیس بک پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’کے جی ایف اور پشپا نے جس طرح اپنی اپنی فلموں میں علاقائی شناخت کو دکھایا، اسی طرح ایمپوران نے کیرالہ کی علاقائیت کو ابھارا ہے۔‘‘ انھوں نے یہ بھی کہا کہ جو لوگ ’دی کشمیر فائلز‘ اور ’دی کیرالہ اسٹوری‘ جیسی فلموں کو لے کر اظہارِ رائے کی آزادی کی حمایت کر رہے تھے، وہی اب ’ایمپوران‘ کی مخالفت کر رہے ہیں، جو ان کے دوہرے پیمانے کو ظاہر کرتا ہے۔
دوسری طرف ’سناتن مذہب‘ اور ’ہندو پوسٹ‘ جیسے دایاں محاذ سے منسلک پلیٹ فارمز نے فلم کو ہندو مخالف قرار دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق کئی دایاں محاذ تنظیموں کا ماننا ہے کہ فلمساز پرتھوی راج سوکومارن نے موہن لال اور ان کے شیدائیوں کو دھوکہ دیا ہے۔ حالانکہ کیرالہ میں بی جے پی ریاستی یونٹ نے اس تنازعہ سے خود کو الگ کر لیا ہے۔ بی جے پی کیرالہ کے جنرل سکریٹری پی سدھیر نے کہا کہ پارٹی کسی فلم کے خلاف مہم نہیں چلائے گی۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ فلم اپنی راہ چلے گی اور پارٹی اپنا کام کرے گی، ہر کسی کو اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔