دہلی ہائی کورٹ نے پیر کے روز سابق مرکزی وزیر ریل اور آر جے ڈی کےسربراہ لالو پرساد یادو کی اس عرضی پرمرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کو نوٹس جاری کیا ہےجس میں انہوں نے آئی آر سی ٹی سی گھپلہ معاملے میں الزات عائد کئے جانے کےحکم کو چیلنج کیا تھا۔ جسٹس سورن کانتا شرما کی بینچ نے سی بی آئی سے اس معاملے میں جواب داخل کرنے کے لئے کہا ہے۔
حالانکہ عدالت نے فی الحال ٹرائل (مقدمہ) پر روک لگانے سے انکار کردیا ہے۔ لالو یادو نے نچلی عدالت کے اسحکم کو خارج کرنے کا مطالبہ کیا ہے جس میں انہیں، ان کی بیوی رابڑی دیوی اور بیٹے تیجسوی یادو سمیت 14 ملزمین کے خلاف مجرمانہ سازش، جعلسازی اور بدعنوانی کے تحت الزام طے کئے گئے تھے۔ عدالت نے اب اس معاملے کی آئندہ سماعت 14 جنوری 2026 کے لیے فہرست بند کی ہے۔
آرجے ڈی کے سرپرست لالو یادو کی جانب سے سینئر ایڈوکیٹ کپل سبل نے دوران سماعت دلیل دی کہ نچلی عدالت نے میکینیکل طور سے الزامات عائد کئے ہیں اور ان کے خلاف کوئی براہ راست ثبوت نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی دلیل دی کہ ہوٹلوں سے متعلق انتظامی فیصلے آئی آرسی ٹی سی بورڈ کے ذریعہ لئے گئے تھے، نہ کہ ریلوے وزیر کے آفس کی طرف سے لئے گئے تھے۔
اس معاملے میں حالانکہ دہلی ہائی کورٹ نے فی الحال ٹرائل اسٹے دینے سے انکار کردیا ہے اور کہا ہے کہ اس پر سی بی آئی کا جواب سننے کے بعد ہی کوئی فیصلہ لیا جائے گا۔ بتادیں کہ لالو پرساد یادو 2004 سے 2009 کے درمیان مرکزی وزیر ریل تھے۔ سی بی آئی نے الزام لگایا ہے کہ لالو یادو نے ریلوے وزیر رہتے ہوئے الگ الگ زون میں گروپ’ڈی‘ پوسٹ پر لوگوں کو نوکری دینے کے عوض اپنے خاندان کے ارکان کے نام پر زمین جائداد منتقل کرواکر مالی فوائد حاصل کئے تھے۔











