ہندوستانی ریلوے نے ٹکٹ کینسل کرانے کے اصول سخت کردیئے ہیں۔ اب اگر کوئی مسافر ٹرین چھوٹنے سے 8 گھنٹے پہلے تک ٹکٹ کینسل کرتا ہے تبھی اسے رقم واپسی (ریفنڈ) ملے گا۔ ریلوے کی جانب سے ٹکٹ کینسل کرنے اور سفری قوانین میں بڑی تبدیلی کی گئی ہے جس کا اثر براہ راست مسافروں کی جیب پر پڑے گا۔ اس سے ٹکٹ کینسل کرانے کی حد 4 گھنٹے تھی لیکن اب اسے بڑھا کر 8 گھنٹے کر دی گئی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ آخری لمحات تک ٹکٹ جیب میں رکھنے کی عادت کا خمیازہ بھگتنا پڑسکتا ہے۔ مسافروں کو اپنے سفر کا فیصلہ پہلے کرنا ہوگا۔ اسی سلسلے میں مسافروں کی سہولت کے لحاظ سے ریلوے نے چارٹ تیارکرنے کے وقت کو 4 گھنٹے سے بڑھا کر 8 گھنٹے پہلے کر دیا ہے۔
نئے قوانین کو مرحلہ وار یکم سے 15 اپریل کے دوران لاگو کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں ریلوے کے وزیر اشونی ویشنو نے بتایا کہ یہ تبدیلیاں ریلوے میں شفافیت بڑھانے اور خالی سیٹوں کا بہتر استعمال کرنے کے لیے کی گئی ہیں۔ اس سے ویٹنگ لسٹ والے مسافروں کو کنفرم ٹکٹ ملنے کے زیادہ مواقع ملیں گے اور سفر کا منصوبہ بنانا آسان ہوگا۔
نئے قوانین کے مطابق اگر کوئی مسافر ٹرین کی روانگی سے 72 گھنٹے پہلے اپنا ٹکٹ کینسل کر تا ہے تو اسے تقریباً پوری رقم واپس ملے گی۔ صرف منسوخی چارج لیا جائے گا۔ روانگی سے 24 اور 8 گھنٹے کے درمیان منسوخی کے نتیجے میں ٹکٹ کی قیمت سے 50 فیصد کٹوتی ہوگی۔ پہلے یہ اصول 12 سے 4 گھنٹے کے درمیان لاگو ہوتا تھا۔ اسی طرح 72 سے 24 گھنٹوں کے درمیان ٹکٹ کینسل کرانے پرٹکٹ کی قیمت سے 25 فیصد کٹوتی ہوگی۔
اگر ٹرین کی روانگی سے 72 گھنٹے قبل کوئی ٹکٹ کینسل کیا جاتا ہے تو فی مسافر مقررہ منسوخی فیس کاٹ کر پوری رقم واپس دی جائے گی۔ موجودہ قوانین کے مطابق 48 سے 12 گھنٹے کے درمیان ٹکٹ کینسل کرانے پر25 فیصد کٹوتی ہوتی تھی جبکہ 48 گھنٹے سے زیادہ پہلے کینسل کرنے پر پوری رقم واپس ملتی تھی۔ ریلوے نے مسافروں کو کچھ سہولیات بھی دی ہیں۔
اب اگر آپ نے کاؤنٹر سے ٹکٹ لیا ہے تو اسے ملک کے کسی بھی اسٹیشن سے کینسل کراسکتے ہیں۔ اس سے قبل یہ سہولت صرف اس اسٹیشن تک محدود تھی جہاں سے ٹکٹ خریدا گیا تھا۔ وہیں ای ٹکٹ کے معاملے میں بھی عمل کو آسان کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے اور ٹکٹ کینسل ہوتے ہی ریفنڈ خود بخود ہو جائے گا۔ کچھ خاص حالات میں مسافروں کو پوری راحت بھی ملے گی۔ اگر ٹرین منسوخ ہوجاتی ہے یا 3 گھنٹے سے زیادہ تاخیر کا شکار ہوتی ہے تو مسافر کو پوری رقم واپس ملے گی۔ اسی طرح اگر وہ چارٹ تیار ہونے کے بعد بھی ویٹنگ لسٹ کا ٹکٹ کنفرم نہیں ہوتا ہے تو وہ خود بخود کینسل ہو جائے گا اور پوری رقم واپس مل جائے گی۔
















