نئی دہلی :لوک سبھا میں وقف ترمیمی بل پر جاری بحث کے دوران سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے بی جے پی حکومت پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے سوال اٹھایا، "یہ لوگ نوٹ بندی لے کر آئے، کیا ہوا؟ گنگا-جمنا صاف ہوئیں؟ گود لیے گئے گاؤں کا کیا ہوا؟” انہوں نے مزید کہا کہ "عید پر تمام مذاہب کے رہنما جاتے ہیں، لیکن اس بار پابندی تھی۔ کیا یہی آئین سکھاتا ہے؟”
اکھلیش یادو نے مہاکمبھ میں ناقص انتظامات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا، "بی جے پی نے 100 کروڑ لوگوں کو بلایا، لیکن تیاری نہیں کی۔ 1000 ہندو لاپتہ ہیں، کہاں گئے وہ؟” ان کے اس بیان پر ایوان میں شور مچ گیا۔
بحث کے دوران جب اکھلیش یادو نے طنزیہ انداز میں کہا کہ بی جے پی ابھی تک اپنا قومی صدر نہیں چن پائی، تو وزیر داخلہ امت شاہ اپنی نشست سے کھڑے ہو گئے اور جواب دیتے ہوئے کہا، "ہم پانچ افراد کے خاندان میں صدر نہیں چنتے۔” ایوان میں اس پر مزید گرما گرم بحث ہوئی۔
ترنمول کانگریس کے رہنما کلیان بنرجی نے وقف ترمیمی بل کی سخت مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ آئین کے خلاف اور جمہوری ڈھانچے پر حملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی وقف املاک پر سیاست کر رہی ہے، جبکہ یہ مسلم کمیونٹی کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔
کلیان بنرجی نے 1995 کے وقف ایکٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ قانون اسلامی اصولوں کے مطابق بنایا گیا تھا اور اس میں مجوزہ ترمیم اسلامی روایات اور ثقافت کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام مسلمانوں کے حقوق سلب کرنے کی کوشش ہے، جو سراسر غیر آئینی ہے۔