مہاراشٹر کے چھترپتی سمبھاج نگر شہر کے تیسگاؤں علاقے میں مشہور کھاودیا پہاڑ سے گر کر ایک ہی خاندان کے تین افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ باپ کی ڈانٹ سے ناراض 18 سالہ بیٹا خودکشی کے ارادے سے پہاڑ پر پہنچ گیا تھا۔ باپ اسے بچانے کی کوشش میں گر پڑا، اور ماں، اپنے شوہر اور بیٹے کو اپنی آنکھوں کے سامنے مرتے دیکھ کر صدمے سے چٹان سے کود گئی۔
مرنے والوں کی شناخت 18سالہ کنال چند گوڑے، اس کے والد 48سالہ مرلی دھر چند گوڈے اور اس کی ماں 42سالہ سنگیتا چند گوڑے کے طور پر کی گئی ہے۔ ایک عینی شاہد اور گاؤں کے سابق سربراہ سنجے نے بتایا کہ کنال صبح 10 بجے سے دوپہر 1 بجے تک ایک اونچی چٹان پر کھڑا تھا۔ وہ افسردہ دکھائی دے رہا تھا اور مسلسل اپنی پوزیشن بدل رہا تھا۔ اس کی ماں نے روتے ہوئے اسے نیچے آنے کی التجا کی لیکن اس نے سننے سے انکار کر دیا۔ سابق سربراہ نے بھی اسے سمجھانے کی کوشش کی اور کہا، "تم پڑھے لکھے ہو، ایسا قدم مت اٹھاؤ،” ۔
کافی وقت کے بعد کنال کے والد مرلی دھر چند گوڑے پہاڑ کی چوٹی پر پہنچے اور اسے منانے کی کوشش کی۔ 112 پر اطلاع ملنے پر پولیس اور ریسکیو ٹیمیں بھی جائے وقوعہ پر آ گئی، مذاکرات ناکام ہونے پر والد نے اچانک کنال کو پکڑ کر پیچھے کھینچنے کی کوشش کی۔ ہونے والی جدوجہد میں دونوں اپنا توازن کھو بیٹھے اور سینکڑوں فٹ گہری کھائی میں جا گرے۔ ماں سنگیتا نے اپنے شوہر اور نوجوان بیٹے کو اپنی آنکھوں کے سامنے چٹان سے گرتے ہوئے دیکھا، گہرا صدمہ ہوا اور اسی چٹان سے چھلانگ لگا دی۔پورا تیسگاؤں علاقہ سوگ میں ڈوب گیا۔ پولیس نے مکمل تفتیش شروع کر دی ہے۔

















