جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ پر شادی کی ایک تقریب کے دوران جان لیوا حملے کی کوشش کے بعد ملک کے مختلف سیاسی قائدین نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے اور اس واقعہ کو انتہائی سنگین سکیورٹی چوک قرار دیتے ہوئے مکمل اور شفاف جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔
کانگریس کے سینئر لیڈر سچن پائلٹ نے اس واقعہ پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ایک عوامی تقریب میں اس طرح کی جان لیوا کوشش سکیورٹی انتظامات پر سنگین سوالات کھڑے کرتی ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ فاروق عبداللہ پر شادی کی ایک تقریب میں جان سے مارنے کی کوشش کی گئی، تاہم خوش قسمتی سے وہ محفوظ رہے۔ سچن پائلٹ نے کہا کہ یہ معاملہ انتہائی سنجیدہ ہے اور اس کی مکمل اور گہرائی سے جانچ ہونی چاہیے تاکہ اس بات کا پتہ چل سکے کہ سکیورٹی میں چوک کیسے ہوئی۔
جموں و کشمیر حکومت میں وزیر سکینہ اِتو نے بھی اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایک ایسے سابق وزیر اعلیٰ پر، جنہیں زیڈ پلس سکیورٹی حاصل ہے، اس طرح کا حملہ کئی اہم سوالات کو جنم دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اطمینان کی بات ہے کہ فاروق عبداللہ محفوظ ہیں، تاہم اس واقعہ کی مکمل جانچ ہونی چاہیے اور یہ بھی طے کیا جانا چاہیے کہ سکیورٹی میں کوتاہی کہاں ہوئی۔
ادھر جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی اس واقعہ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ان کے والد اس حملے میں بال بال بچ گئے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ایک شخص بھری ہوئی پستول کے ساتھ انتہائی قریب تک پہنچنے میں کامیاب ہوگیا اور اس نے فائرنگ کی کوشش کی۔ عمر عبداللہ کے مطابق قریب موجود سکیورٹی ٹیم نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اس حملے کو ناکام بنا دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعہ کے بعد کئی سوالات کھڑے ہو گئے ہیں، خاص طور پر یہ کہ زیڈ پلس سکیورٹی کے باوجود کوئی شخص اتنا قریب کیسے پہنچ گیا۔
















