دہلی سکھ گرودوارہ مینجمنٹ کمیٹی کے سربراہ نے عام آدمی پارٹی (عآپ) کے قومی کنوینر اروند کیجریوال اور دیگر پارٹی لیڈران کے خلاف پولیس میں شکایت درج کرائی ہے۔ ان کا الزام ہے کہ عآپ نے مظاہرین کو زبردستی گرودوارے کے اندر داخل کرایا اور سوشل میڈیا پر صورت حال کو غلط طریقے سے پیش کیا گیا۔ دہلی پولیس نے اس شکایت پر ایف آئی آر درج کر کے معاملے کی جانچ شروع کر دی ہے۔
دہلی سکھ گرودوارہ مینجمنٹ کمیٹی کے صدر نے الزام لگایا کہ مظاہرین کو زبردستی گرودوارے کے اندر داخل کرایا گیا تھا۔ انہوں نے اپنی شکایت میں یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر صورت حال کو انتہائی غلط طریقے سے پیش کیا گیا۔ اپنی شکایت میں دہلی سکھ گرودوارہ مینجمنٹ کمیٹی نے الزام لگایا ہے کہ عآپ کارکنان اور حامی منصوبہ بند طریقے سے گرودوارے کے احاطے میں داخل ہوئے اور وہاں افراتفری اور بدامنی پھیلائی۔ ان کا یہ بھی الزام ہے کہ ان لوگوں نے سیاسی سرگرمیوں کے لیے ’گرو گھر‘ کی پاکیزگی کا استعمال کرنے کی کوشش کی۔
دہلی سکھ گرودوارہ مینجمنٹ کمیٹی کے سربراہ نے بتایا کہ گرودوارے کی انتظامیہ اور سیواداروں نے صرف امن برقرار رکھنے، احاطے کی پاکیزگی کو محفوظ رکھنے اور صورت حال کو مزید خراب ہونے سے روکنے کے لیے مداخلت کی تھی۔ شکایت کے ساتھ انہوں نے دہلی پولیس کو ایک ویڈیو بھی دی ہے اور اس معاملے میں کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
دہلی سکھ گرودوارہ مینجمنٹ کمیٹی کے صدر نے اپنی شکایت میں الزام لگایا کہ عآپ کے اراکین اسمبلی و لیڈران نے ویڈیو اور سوشل میڈیا پوسٹس کے ذریعے واقعہ کو غلط طریقے سے پیش کیا اور گرودوارہ مینجمنٹ کمیٹی پر ہی الزامات عائد کیے۔ شکایت میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اروند کیجریوال نے ان الزامات کی کھلے عام حمایت کی اور انہیں مزید آگے بڑھایا۔ کمیٹی کے صدر کے مطابق واقعہ سے متعلق مواد میں عآپ کارکنان کا رویہ اور ہنگامے کی صورت حال واضح طور پر دکھائی دیتی ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ واقعہ کے دوران ہنگامہ آرائی اور اس کے بعد منتخب کر کے گمراہ کن ویڈیوز پھیلانا کسی سوچی سمجھی منصوبہ بندی کا حصہ ہو سکتا ہے۔

















