این آئی اے کی تحقیقات جموں و کشمیر، ہریانہ، اتر پردیش، مہاراشٹر، گجرات اور دہلی-این سی آر تک پھیلی ہوئی ہیں۔ لال قلعہ دھماکہ معاملے کی تحقیقات کے دوران 588 گواہوں کے بیانات درج کیے گئے۔ این آئی اے نے 395 سے زیادہ دستاویزات اور 200 سے زائد ضبط شدہ سامان/شواہد کو چارج شیٹ کا حصہ بنایا ہے۔ خصوصی این آئی اے عدالت نے معاملے کی اگلی سماعت 9 ستمبر کو مقرر کی ہے۔
لال قلعہ کے باہر 10 نومبر 2025 کو کار میں بم دھماکہ ہوا تھا، جس میں 15 افراد کی موت ہوئی تھی اور کئی لوگ زخمی ہوئے تھے۔ این آئی اے کے مطابق تمام ملزمین دہشت گرد تنظیم انصار غزوات الہند سے وابستہ تھے، جو القاعدہ کی ہی ایک شاخ ہے۔ این آئی اے نے دعویٰ کیا ہے کہ ملزمین نے ’آپریشن ہیونلی ہند‘ کے نام سے ایک مہم شروع کی تھی، جس کا مقصد انتہا پسندانہ نظریے کو پھیلانا اور جمہوری حکومت کے خلاف سازش کرنا تھا۔
این آئی اے کی چارج شیٹ میں شامل ملزمین میں بیشتر ڈاکٹر اور تعلیم یافتہ پیشہ ور افراد شامل ہیں، جو انتہا پسندی سے متاثر ہو کر اس سازش کا حصہ بنے۔ دہشت گرد طفیل احمد بھٹ کی ٹیلی فون سہولت سے متعلق عرضی پر گزشتہ بار دیے گئے حکم کی رپورٹ نہ ملنے پر عدالت نے متعلقہ جیل سپرنٹنڈنٹ کو ذاتی طور پر یا ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے پیش ہونے کی ہدایت دی تھی۔ این آئی اے نے عدالت کو بتایا ہے کہ مزید تحقیقات ابھی جاری ہیں۔

















