مدھیہ پردیش کے چھندواڑہ ضلع کے پراسیا میں گزشتہ برس سامنے آنے والے کف سیرپ اسکینڈل سے متعلق ایک اور دردناک خبر سامنے آئی ہے۔ اس معاملے میں سنگین طور سے بیمار ہوئے بیتول ضلع کے ایک 4 سال کے معصوم کی علاج کے دوران موت ہوگئی۔ بچے کا علاج ناگپور کے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں چل رہا تھا جہاں اس نے اتوار اور پیر کی درمیانی شب میں آخری سانس لی۔
اطلاعات کے مطابق بیتول ضلع کی آملہ تحصیل کے ٹیکابری گاؤں میں رہنے والے گوکُل یادو کا بیٹا ہرش گزشتہ 4 ماہ سے زیادہ وقت سے کومہ میں تھا۔ حالت بے حد نازک ہونےکی وجہ سے اسے ایمس ناگپور کے آئی سی یو میں داخل کرایا گیا تھا۔ ڈاکٹروں کی کوششوں کے باوجود بچے کی حالت بہتر نہ ہو سکی اور بالآخر اتوار کی رات دیر گئے اس کی موت ہو گئی۔ معصوم کی موت سے اہل خانہ پرغم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا ہے۔ والدین کا روروکر بُرا تہی جب- گاؤں میں بھی غم کی لہر دیکھی جارہی ہے۔ خاندان کا کہنا ہے کہ انہیں آخری وقت تک امید تھی کہ ہرش ٹھیک ہو جائے گا لیکن قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔
اس معاملے میں بیتول کے چیف میڈیکل اینڈ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر منوج ہرماڑے نے بچے کی موت کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پیر کو ناگپور میں پوسٹ مارٹم کرواکر لاش اہل خانہ کو سونپ دی گئی ہے۔ اس موت کے بعد ایک بار پھر کولڈریف کف سیرپ اسکینڈل پر سوالات کھڑے ہوگئے ہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت سخت کارروائی اور بہتر نگرانی کی جاتی تو شاید یہ معصوم بچہ آج زندہ ہوتا۔ معاملے میں پہلے سے جاری تحقیقات پر بھی اب نظریں مرکوز ہوگئی ہیں۔ فی الحال انتظامیہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کا انتظار کر رہی ہے اور لواحقین کو ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔
















