مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی اندور بنچ نے ریاستی حکومت کو چائنیز مانجھے پرعائد پابندی کو سختی سے نافذ کرنے کی ہدایت دی ہے۔ عدالت نے کہا کہ اگر کوئی نابالغ ممنوعہ مانجھے کا استعمال کرکے پتنگ اڑاتے ہوئے پایا جاتا ہے تو اس کے والدین کو قانونی طور پر ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے۔
جسٹس وجے کمار شکلا اور آلوک اوستھی کی بنچ نے یہ بھی حکم دیا کہ لوگوں کے درمیان اس بات کی وسیع پیمانے پر تشہیر کی جائے کہ چینی مانجھے کی فروخت یا استعمال کرنے پر تعزیرات ہند کی دفعہ 106(1) کے تحت لاپرواہی سے موت کا سبب بننے کے لیے کارروائی ہو سکتی ہے۔ بنچ نے 11 دسمبر کو چینی مانجھے سے ہونے والی اموات اور حادثات کا ازخود نوٹس لیا تھا۔
سماعت کے دوران ریاستی حکومت نے عدالت کو بتایا کہ چائنیز مانجھے کی فروخت روکنے کے لیے پہلے ہی اقدامات کیے جا چکے ہیں اور پتنگ کے دھاگے سے متعلق حادثات کو روکنے کے لیے متعدد احتیاطی تدابیر پرعمل درآمد کیا جا رہا ہے۔ ریاستی حکومت نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ چینی مانجھے کی فروخت اور استعمال کو روکنے کے لیے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں آگاہی مہم چلائی جائے گی۔
اس سلسلے میں خصوصی حکم جاری کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے کہا کہ انتظامیہ بڑے پیمانے پر اس بات کی تشہیر کرے کہ چینی مانجھا بیچنا یا استعمال کرنا تعزیرات ہند (آئی پی سی) کی دفعہ 106(1) کے تحت جرم ہے۔ یہ دفعہ لاپرواہی سے ہوئی موت (سابقہ آئی پی سی کی دفعہ 304اے) کے لیےلاگو ہوتی ہے۔ عدالت نے کہا کہ ’یہ بھی خیال رہے کہ اگر کوئی نابالغ چینی نائلون دھاگے کا استعمال کرتا ہوا پایا جاتا ہے تو اس کے سرپرست کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے۔















