مغربی بنگال میں کھڑگ پور کی ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) اور 2021 بیچ کی آئی پی ایس افسر بشریٰ بانو کا پیر (14 ستمبر) کو تبادلہ کر دیا گیا۔ انہیں ریاستی مسلح پولیس میں ڈپٹی کمانڈنٹ کے عہدہ پر بھیجا گیا ہے۔ ان کی جگہ پارتھ گھوش ذمہ داری سنبھالیں گے۔ بشریٰ بانو کے تبادلہ پر کانگریس کے راجیہ سبھا رکن عمران پرتاپ گڑھی کا سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’برکس اجلاس میں دنیا بھر سے آئے ہوئے مسلم ممالک کے سربراہان کو بانہیں پھیلا کر گلے لگانے والے مودی جی کی مغربی بنگال کی ریاستی حکومت نے کھڑگ پور میں تعینات آئی پی ایس بشریٰ بانو کا محض اس لیے ٹرانسفر کر سائڈ لائن کر دیا کیونکہ ویڈیو پیغام کے ذریعہ نوجوانوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے ان شاء اللہ اور جزاک اللہ کہہ دیا تھا، جس کا معنیٰ بہت سادہ ہے۔
اپنی ’ایکس‘ پوسٹ میں عمران پرتاپ گڑھی مزید لکھتے ہیں کہ ’’ایک نفرتی ٹی وی چینل نے پہلے وہ ویڈیو سنسنی خیز بنا کر پوسٹ کی اور خاتون آئی پی ایس کی آن لائن ٹرولنگ کروائی گئی، ریاستی حکومت نے ان کا ساتھ دینے کے بجائے اگلے دن ان کا ٹرانسفر کر دیا۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے وزیر اعظم مودی اور آئی پی ایس ایسوسی ایشن کو ٹیگ کرتے ہوئے لکھا کہ ’’یہ کیسا ہندوستان بنا رہے ہیں نریندر مودی جی آپ؟ آئی پی ایس ایسوسی ایشن کیا آپ دیکھ رہے ہیں؟؟
واضح رہے کہ کوئی بھی مسلم خواہ وہ کسی بھی عہدے پر فائز ہو جب کسی تقریب سے خطاب کرتا ہے یا اپنوں کے درمیان کوئی گفتگو شروع کرتا ہے تو سلام کرنا اور ان شاء اللہ و جزاک اللہ جیسے الفاظ کا استعمال بہت عام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وائرل ویڈیو میں بشریٰ بانو نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی رہائشی کوچنگ اکیڈمی اور مسابقتی امتحانات سمیت اعلیٰ تعلیم میں اس کے کردار کے بارے میں جب تقریر کرنا شروع کیا تو سب سے پہلے اپنے ہم مذہب طلبہ کو سلام کیا اور پھر اپنی بات شروع کی۔ انہوں نے بتایا تھا کہ کیسے انہیں یو پی ایس سی کی تیاری میں کوچنگ اکیڈمی نے مدد کی تھی۔















