حوثی باغیوں کے بڑھتے ہوئے حملوں کے درمیان سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کی سیکورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ احتیاطی تدابیر کے طور پر ولی عہد محمد بن سلمان کو سخت حفاظتی انتظامات اور زیر زمین بنکروں کی سہولت والے محلات کے درمیان مسلسل منتقل کیا جا رہا ہے، یعنی ان کی رہائش کی جگہ بار بار بدلی جا رہی ہے۔ سعودی عرب نے میزائلوں اور ڈرونز سے متعلق معلومات شیئر کرنے پر قانونی کارروائی کی وارننگ دی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق 41 سالہ ولی عہد گزشتہ تقریباً ایک ہفتہ سے عوامی طور پر نظر نہیں آئے ہیں۔ اس دوران وہ بنکروں کی سہولت والے اور سخت حفاظتی انتظامات سے لیس محلات میں قیام کر رہے ہیں۔ ’وال اسٹریٹ جرنل‘ نے ان کی سرگرمیوں سے واقف حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ سعودی عرب اور یمن کے حوثی باغیوں کے درمیان بڑھتے ہوئے تصادم اور سلامتی کو لاحق خطرات کے پیش نظر یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔ ولی عہد کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے خصوصی طور پر منتخب کردہ ایک ٹیم بھی تعینات کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ سعودی عرب میں حوثی باغیوں نے حملے تیز کر دیے ہیں۔ گزشتہ دنوں کنگ خالد ایئرپورٹ پر ہونے والے ایک مہلک حملے میں 13 افراد کی موت ہو گئی، جبکہ 300 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے۔ حوثیوں نے مزید حملے کرنے کی وارننگ بھی دی ہے۔ اس دوران سعودی عرب نے 6 زبانوں میں ایک پیغام جاری کیا ہے۔ سعودی حکام نے واضح طور پر کہا ہے کہ اگر کوئی شخص میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے کے عمل یا ان کے گرنے کے مقامات کی ویڈیو بناتا ہے یا ان سے متعلق معلومات شیئر کرتا ہے تو اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ ایسے افراد کو گرفتار بھی کیا جا سکتا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ سعودی عرب نے مئی میں قومی پیشگی انتباہی نظام (نیشنل ارلی وارننگ سسٹم) کے ذریعہ موبائل فون اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر خطرات سے متعلق الرٹ بھیجنا شروع کیا تھا۔ تاہم، گزشتہ ہفتہ حوثی باغیوں کے حملوں میں تیزی آنے کے باوجود اس نظام کے ذریعہ کوئی الرٹ جاری نہیں کیا گیا۔ اس دوران سول ڈیفنس اتھارٹی کے ایکس اکاؤنٹ پر موجود پوسٹ کے مطابق گزشتہ ہفتہ ہونے والے حملوں سے پہلے آخری الرٹ 29 ستمبر کو جنوبی صوبے نجران کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ دریں اثنا سول ڈیفنس اتھارٹی خراب موسم، بارش اور سیلاب جیسی صورت حال میں لوگوں کو محتاط رہنے کی وارننگ دیتی رہی ہے۔ پیر کے روز بھی اسی سلسلے میں ایک الرٹ جاری کیا گیا تھا۔


















