چنڈی گڑھ: پنجاب میں کسان ایک بار پھر احتجاج کی راہ پر ہیں۔ کسان مزدور مورچہ (کے ایم ایم) کی قیادت میں کسانوں اور زرعی مزدوروں نے جمعرات کو اپنی 12 نکاتی مانگوں کے حق میں ریاست کے مختلف مقامات پر ریل پٹریوں پر دھرنا دے کر ریل روکو احتجاج کیا۔ مظاہرے کے باعث کئی مقامات پر ٹرینوں کی آمدورفت متاثر ہوئی اور ریلوے انتظامیہ کو بعض ٹرینیں منسوخ کرنے اور کچھ کے راستے تبدیل کرنے پڑے۔
کسان تنظیموں نے پنجاب حکومت کو مطالبات پر کارروائی کے لیے 17 ستمبر کو دوپہر 12 بجے تک کی مہلت دی تھی۔ مقررہ وقت تک مطالبات پر پیش رفت نہ ہونے کے بعد کسانوں نے پہلے سے طے شدہ منصوبے کے مطابق ریل پٹریوں پر بیٹھ کر احتجاج شروع کر دیا۔
کسان مزدور مورچہ کے مطابق کسان فیروزپور کے مَلّاں والا، امرتسر، گورداسپور اور موگا میں ریل پٹریوں پر دھرنے پر بیٹھے۔ امرتسر کے دیوی داس پورہ سمیت دیگر مقامات پر بھی احتجاج کی اطلاعات سامنے آئیں۔ احتجاج کے باعث مسافروں کو دشواری کا سامنا کرنا پڑا اور ریل خدمات متاثر ہوئیں۔
کسانوں کے اہم مطالبات میں کسانوں اور زرعی مزدوروں کی قرض معافی اور باسمتی دھان، مکئی، مونگ، سرسوں اور آلو سمیت مختلف فصلوں کی کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) پر خرید شامل ہے۔ اس کے علاوہ سابقہ کسان تحریکوں کے دوران کسانوں اور مزدوروں کے خلاف درج مقدمات واپس لینے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔


















