امریکہ نے ایک بار پھر ایران پر حملے کیے ہیں اور اس بار ایک شادی والا گھر بھی امریکی حملوں کی زد میں آ گیا ہے۔ ایرانی ’ریڈ کریسنٹ‘ نے ایک ویڈیو جاری کی ہے، جس میں منگل کی شام جنوبی شہر کوہستک میں امریکی فضائی حملوں کا نشانہ بننے والا ایک گھر دکھایا گیا ہے۔ اس گھر میں شادی کی تقریب جاری تھی۔ اس ڈرون حملہ نے اس گھر میں موجود خوشیوں کے ماحول کو اچانک ماتم میں تبدیل کر دیا۔
دراصل امریکی فوج نے منگل کو ایران میں کئی ٹھکانوں پر حملے کیے۔ اس کے جواب میں تہران نے مختلف علاقوں میں کئی مقامات پر میزائل اور ڈرون داغے۔ ان حملوں اور جوابی حملوں کے سبب 6 ماہ سے زیادہ عرصہ سے وقفہ وقفہ سے جاری اس جنگ میں ایک بار پھر کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ مقامی حکام نے بتایا کہ امریکی حملے میں ایک گھر کو نشانہ بنایا گیا، جہاں شادی کی تقریب ہو رہی تھی۔ اس حملے میں 5 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔ ایرانی میڈیا آؤٹ لیٹ ’ایس ایس این ٹی وی‘ نے بھی اپنے ٹیلی گرام چینل پر ایک ویڈیو پوسٹ کی ہے۔ چینل کا دعویٰ ہے کہ ویڈیو میں حملے میں زخمی ہونے والے بچوں اور ایک شخص کو میناب اسپتال میں زیر علاج دکھایا گیا ہے۔
اس درمیان امریکی سنٹرل کمانڈ نے کہا کہ یہ تازہ حملے ایران کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں تجارتی بحری جہازوں اور امریکی فوج پر حملے کی کوششوں کے جواب میں کیے گئے تھے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اس بارے میں مزید معلومات دیتے ہوئے ’فاکس نیوز‘ کو فون پر بتایا کہ امریکی فوج نے ایران کے رڈار پر حملے کیے۔
گزشتہ اتوار کو آبنائے ہرمز میں ہوئے حملوں کے بعد امریکہ کے ذریعہ یہ حملے کیے گئے ہیں۔ یہ نئی لڑائی ایسے وقت شروع ہوئی ہے، جب گزشتہ ماہ یہ مانا جا رہا تھا کہ ٹرمپ ایران کو اقتصادی پابندیوں کے ذریعے سزا دینے کی جانب بڑھ رہے ہیں، تاہم پیر کو انہوں نے تسلیم کیا کہ مزید حملے کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

















