سماعت کے دوران مرکزی حکومت کی جانب سے پیش ہونے والے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت کو بتایا کہ امتحانی نظام میں اصلاحات کے عمل کی نگرانی اعلیٰ ترین سطح پر کی جا رہی ہے اور حکومت جلد ہی اس سلسلے میں ایک تفصیلی حلف نامہ عدالت میں داخل کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے لیے طلبہ کے مفادات سب سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں اور امتحانی نظام کو ہر ممکن طور پر محفوظ بنانے کے لیے سنجیدگی سے کام کیا جا رہا ہے۔
تشار مہتا نے بتایا کہ حکومت سوالیہ پرچوں کی طباعت سے لے کر انہیں امتحانی مراکز تک محفوظ طریقے سے پہنچانے اور امتحان کے انعقاد تک کے پورے عمل کی تفصیلات سپریم کورٹ کے سامنے پیش کرے گی۔ ان کے مطابق، امتحانی نظام میں بہتری کے لیے قائم کردہ رادھا کرشنن کمیٹی کی تمام سفارشات پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ حکومت اپنے حلف نامے میں کمپیوٹر پر مبنی امتحانی نظام، ڈیٹا سکیورٹی اور سائبر سکیورٹی سے متعلق تمام انتظامات کی تفصیلات بھی پیش کرے گی۔ اس کے علاوہ یہ بھی بتایا جائے گا کہ امتحانی عمل کو تکنیکی اعتبار سے مزید محفوظ اور شفاف بنانے کے لیے کن اقدامات پر عمل کیا جا رہا ہے۔

















