نئی دہلی: سابق مرکزی وزیر اور پارلیمانی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم کے سابق چیئرمین دگ وجے سنگھ نے ملک کے سرکاری تعلیمی نظام کی موجودہ صورت حال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران تقریباً ایک لاکھ سرکاری اسکول بند ہو چکے ہیں، جبکہ سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کے تقریباً 10 لاکھ عہدے خالی پڑے ہیں۔
کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے دگ وجے سنگھ کا ایک مضمون اپنی ایکس پوسٹ پر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ "جنریشن زی” کے نوجوان پیپر لیک اور تعلیمی نظام کی بدحالی سے تنگ آ کر سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ موجودہ حکومت نے اسکولی اور اعلیٰ تعلیم دونوں کے نظام کو کمزور کر دیا ہے۔
دگ وجے سنگھ نے اپنے مضمون میں کہا ہے کہ تعلیمی نظام کی بنیادی اکائی یعنی سرکاری اسکولوں کو منظم طریقے سے کمزور کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق سرکاری اعداد و شمار کے تجزیے سے معلوم ہوتا ہے کہ ملک میں سرکاری اسکولوں کی تعداد میں مسلسل کمی واقع ہوئی ہے۔
انہوں نے لکھا کہ تعلیمی سال 2014-15 میں ملک میں تقریباً 10 لاکھ 77 ہزار سرکاری اسکول موجود تھے، جو 2026-27 تک کم ہو کر تقریباً 10 لاکھ 43 ہزار رہ گئے ہیں۔ ان کے مطابق مختلف ریاستوں میں اسکولوں کے انضمام، بندش اور نجکاری کی پالیسیوں نے اس صورت حال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
مضمون میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ سرکاری اسکولوں میں طلبہ کے داخلوں میں نمایاں کمی آئی ہے، جبکہ اساتذہ کی کمی کے باعث تعلیمی معیار متاثر ہو رہا ہے۔ دگ وجے سنگھ کے مطابق ملک بھر میں تقریباً 10 لاکھ اساتذہ کے عہدے خالی ہیں، جس سے تعلیمی ڈھانچے پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

















