راجستھان کے اجمیر میں نیٹ کے امتحانی مرکز پر ایک مسلم امیدوارہ کلثوم بانو کو یہ کہتے ہوئے امتحانی مرکز میں داخلہ سے روک دیا گیا کہ حجاب اور برقعہ کے ساتھ امتحان لکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی حالانکہ امتحان کا انعقاد کرنے والی نیشنل ٹسٹنگ ایجنسی (NTA) نے مذہبی لباس کے ساتھ امتحان میں حصہ لینے کی اجازت دی ہے۔ این ٹی اے کی جانب سے شرائط کی اجرائی کے باوجود اجمیر میں کلثوم بانو کو ڈوپٹہ اور برقعہ اتارنے کی شرط رکھی گئی۔ کلثوم بانو نے 3 مئی کو منعقدہ نیٹ امتحان میں اسی لباس کے ساتھ شرکت کی تھی۔ انہوں نے حکام سے کہا کہ نیشنل ٹسٹنگ ایجنسی کی شرائط کے مطابق وہ مذہبی لباس میں امتحان لکھ سکتی ہیں اور انہیں روکا نہیں جاسکتا۔ کلثوم بانو نے یہاں تک کہا کہ اگر اس لباس میں امتحان لکھنے کی اجازت نہیں دی گئی تو وہ امتحان نہیں لکھیں گی کیونکہ ان کے لئے امتحان سے زیادہ شناخت اور برقعہ اہمیت رکھتا ہے۔ کلثوم اور ان کے والد کی مقامی انتظامیہ اور پولیس عہدیداروں کے ساتھ کافی بحث و تکرار ہوئی۔ نیشنل ٹسٹنگ ایجنسی کی ہدایات کی کاپی عہدیداروں کو پیش کی گئی۔ مقامی افراد نے بھی پولیس کے رویہ پر ناراضگی جتائی اور احتجاج درج کرایا۔ نیشنل ٹسٹنگ ایجنسی کی شرائط کے بارے میں اعلیٰ عہدیداروں کو واقف کرانے کے بعد کلثوم بانو کو امتحانی مرکز میں جانے کی اجازت دی گئی تاہم اس وقت تک ایک گھنٹہ ضائع ہوچکا تھا۔
ضلع کلکٹر اجمیر لوک بندھو بھی امتحانی مرکز پہنچے اور عہدیداروں سے بات چیت کی۔ کلثوم بانو نے تاخیر سے صحیح لیکن حجاب اور برقعہ کے ساتھ امتحان میں حصہ لیتے ہوئے اسلامی شعائر کے تحفظ کی مثال قائم کی ہے۔ کلثوم کے والد محمد علیم نے کہا کہ گزشتہ تین برسوں سے کلثوم امتحان کی تیاری کررہی ہیں اور مئی میں منعقدہ امتحان میں مذہبی لباس کے ساتھ شریک ہوئی تھیں۔ کلثوم کا تعلق اجمیر کے بیور علاقہ سے بتایا جاتا ہے اور ان کی جرأت مندی کی ہر کسی نے ستائش کی۔ کلثوم بانو نے یہ کہتے ہوئے مسلم طالبات کے لئے ایک مثال قائم کی کہ حجاب اور برقعہ ان کے لئے امتحان سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ اگر برقعہ کے بغیر جانا پڑے تو وہ امتحان چھوڑ دیں گی۔ کلثوم بانو نے میڈیا کے نمائندوں کو نیشنل ٹسٹنگ ایجنسی کے قواعد سے واقف کرایا جس میں صاف طور پر تحریر تھا کہ امیدوار مذہبی لباس کے ساتھ امتحان میں شرکت کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پرچہ کے افشاء کے لئے امیدواروں کو ذمہ دار قرار دینا درست نہیں ہے بلکہ انتظامیہ کی ناکامی کے سبب پرچہ کا افشاء ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ برقعہ اور حجاب کے نام پر مسلم طالبات کے مستقبل سے کھلواڑ کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

















