نئی دہلی :اتراکھنڈ میں وقف املاک کو لے کر ایک بڑا معاملہ سامنے آیا ہے، جہاں ریاست کی ہزاروں جائیدادیں اب تک مرکزی حکومت کے ’’امید پورٹل‘‘ پر رجسٹر نہیں ہو سکیں۔ دھامی حکومت نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے غیر رجسٹرڈ جائیدادوں کے اراضی ریکارڈ کی جانچ شروع کر دی ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ریاست میں کل 7,288 جائیدادیں درج ہیں، جن میں 2,105 وقف املاک اور 5,183 دیگر مذہبی و تعلیمی جائیدادیں شامل ہیں۔ ان میں مساجد، مدارس، قبرستان، عیدگاہیں، مزارات، امام بارگاہیں اور اسکول شامل ہیں۔ تاہم اب تک صرف 1,597 جائیدادیں ہی امید پورٹل پر مکمل طور پر منظور اور رجسٹر کی جا سکی ہیں۔ حکومت کے مطابق 4,632 جائیدادوں کے ذمہ داران نے اب تک پورٹل پر کوئی معلومات فراہم نہیں کی۔ ان میں 3,791 مساجد، مدارس، مزارات اور عیدگاہیں جبکہ 841 وقف املاک شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت کو شبہ ہے کہ ان میں سے کئی جائیدادیں سرکاری اراضی پر ناجائز قبضے کے بعد وقف بورڈ کے تحت درج کی گئی تھیں۔
اقلیتی امور کے خصوصی سکریٹری ڈاکٹر پراگ مدھوکر دھکاٹے نے واضح کیا ہے کہ 5 جون کے بعد غیر رجسٹرڈ جائیدادوں کے خلاف براہ راست کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایسی تمام جائیدادوں کو غیر قانونی قبضہ تصور کرتے ہوئے حکومت اپنے قبضے میں لے سکتی ہے۔چیف منسٹر پشکر سنگھ دھامی نے بھی سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے تمام متعلقہ افراد کو کافی وقت اور مواقع فراہم کیے، لیکن اب قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔















