امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان اپنی ’امریکہ فرسٹ‘ معاشی پالیسی کو مزید سخت کرتے ہوئے دواؤں اور دھاتوں کی درآمد پر بڑے پیمانے پر نئے ٹیرف اقدامات کا اعلان کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت کچھ درآمدی ادویات پر 100 فیصد تک محصول عائد کیا جائے گا، جبکہ اسٹیل، ایلومینیم اور تانبے پر 50 فیصد ٹیرف برقرار رکھا گیا ہے، تاہم اس کی حسابی بنیاد میں اہم تبدیلی کی گئی ہے۔
نئے ضوابط کے مطابق اب دھاتوں پر محصول صرف مقدار کی بنیاد پر نہیں بلکہ اس کل قیمت پر عائد کیا جائے گا جو امریکی خریدار ادا کرتے ہیں۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی کا مقصد درآمد کنندگان کی جانب سے قیمت کم ظاہر کرنے کے رجحان کو روکنا ہے، جس کے ذریعے وہ کم ٹیرف ادا کرتے تھے۔
مزید برآں، ایسے مصنوعات جن میں دھات کی مقدار 15 فیصد سے کم ہے، ان پر پہلے عائد 50 فیصد ٹیرف ختم کر دیا گیا ہے۔ تاہم بھاری مصنوعات جیسے واشنگ مشین اور گیس چولہے، جن میں دھات کا تناسب زیادہ ہے، ان پر اب مجموعی قیمت کے حساب سے 25 فیصد یکساں ٹیرف لاگو ہوگا۔


















