گورکھپور کے سکری گنج میں واقع ’نیو راجیش ہائی ٹیک ہاسپٹل‘ میں یکم فروری کو منعقدہ آئی کیمپ کے دوران 30 مریضوں کی آنکھوں کا آپریشن کیا گیا تھا۔ آپریشن کے محض 24 گھنٹے بعد ہی مریضوں کی آنکھوں میں شدید انفیکشن پھیلنے لگا، جس کی وجہ سے 18 لوگوں کی حالت بگڑ گئی۔ مناسب علاج نہ ملنے کی وجہ سے ان میں سے 9 مریضوں نے اپنی آنکھوں کی روشنی ہمیشہ کے لیے کھو دی۔ انتظامیہ نے معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے اسپتال کے آئی ڈپارٹمنٹ کو سیل کر دیا ہے اور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے مجسٹریٹ انکوائری کا حکم دیا ہے۔
متاثرہ خاندانوں کے مطابق اسپتال سے گھر لوٹنے کے بعد ہی آنکھوں سے خون اور مواد (پیپ) گرنا شروع ہو گیا تھا۔ انداری کے رہنے والے سنجے سنگھ نے بتایا کہ ان کے والد کی آنکھ سے خون بہنا بند نہیں ہوا، جس کے بعد انہیں وارانسی اور پھر دہلی جانا پڑا۔ ایک دیگر خاتون ریکھا نے بتایا کہ ان کی ساس سمیت گاؤں کے کئی لوگ اس کیمپ میں گئے تھے، جہاں آپریشن کے بعد ناقابل برداشت درد اور مواد کا مسئلہ شروع ہو گیا۔ کئی مریضوں کی حالت اس قدر خراب تھی کہ ڈاکٹروں کو ان کی آنکھیں تک نکالنی پڑیں۔
ہندی نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر شائع خبر کے مطابق محکمہ صحت کی ابتدائی جانچ اور کلچر رپورٹ میں شدید انفیکشن کی تصدیق ہوئی ہے۔ گورکھپور کے سی ایم او ڈاکٹر راجیش جھا نے بتایا کہ 4 فروری کو واقعے کی اطلاع ملتے ہی ضلعی سطح کی کمیٹی تشکیل دے دی گئی تھی۔ بی آر ڈی میڈیکل کالج کے مائکرو بایولوجی شعبے کی ٹیم نے اسپتال کا معائنہ کیا۔ انفیکشن کے خطرے کے پیش نظر نہ صرف اس اسپتال کو سیل کر دیا گیا، بلکہ آس پاس کے دیگر اسپتالوں کے آپریشن تھیٹروں کو بھی جراثیم سے پاک (ڈس انفیکٹ) کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔

















