سماعت کے دوران عدالت نے اس بنیادی سوال پر توجہ مرکوز رکھی کہ آیا مذہبی یا سماجی بنیادوں پر دی جانے والی بھڑکاؤ تقاریر پر روک کے لیے کوئی جامع رہنما اصول طے کیے جائیں یا کسی مستقل انتظام کی ضرورت ہے۔ عدالت کو یہ بھی دیکھنا ہے کہ نفرت انگیز بیانات کے نتیجے میں پیدا ہونے والے جرائم کو روکنے میں موجود قوانین اور انتظامی مشینری کس حد تک مؤثر ثابت ہو رہی ہے۔
عرضی گزاروں کی جانب سے وکیل نظام پاشا نے مؤقف اختیار کیا کہ شکایات درج ہونے کے باوجود اکثر معاملات میں ایف آئی آر درج نہیں کی جاتیں اور اگر کی بھی جائیں تو مناسب دفعات شامل نہیں ہوتیں۔ ان کے مطابق ہلکی نوعیت کی دفعات کے باعث ایسے افراد دوبارہ اسی طرح کے بیانات دیتے نظر آتے ہیں، جس سے نفرت پر مبنی جرائم کو تقویت ملتی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب ملزمان کی شناخت ہو جاتی ہے تو ریاستی ادارے کارروائی میں ناکام کیوں رہتے ہیں۔


















