اترپردیش کے انتہائی مشہور اخلاق قتل معاملے میں ایک بار پھر سماعت ملتوی کر دی گئی ہے۔ ملزمان کی جانب سے دائر کردہ ’مقدمہ کو منتقل کرنے کی عرضی‘ پر بحث ہونی تھی، لیکن ملزمان کے وکیل نے کچھ اضافی دستاویزات عدالت میں جمع کرنے لیے مزید وقت کا مطالبہ کر دیا۔ جبکہ متاثرہ فریق کی جانب سے اخلاق کے وکیل یوسف سیفی بحث کے لیے پوری طرح تیار تھے۔ اس پر عدالت نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے ملزمان کے وکیل کو واضح لفظوں میں کہہ دیا کہ اب انہیں آخری موقع دیا جا رہا ہے اور آئندہ سماعت کی تاریخ 22 جنوری مقرر کی گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق 22 جنوری کو ہی ٹرانسفر پٹیشن (ٹی اے) پر حتمی طور پر سماعت ہوگی۔ اس سماعت کے بعد یہ طے کیا جائے گا کہ اخلاق قتل کیس کی سماعت ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج سوربھ دویدی کے فاسٹ ٹریک کورٹ (ایف ٹی سی) میں ہی چلے گی یا پھر اسے کسی دوسری عدالت میں منتقل کیا جائے گا۔ اس معاملے کی سماعت کے متعلق طویل عرصہ سے تذبذب کی صورتحال بنی ہوئی ہے، جس کی وجہ سے متاثرہ فریق میں ناراضگی بھی دیکھنے کو مل رہی ہے۔
ملزمان کا کہنا ہے کہ ایف ٹی سی عدالت نے ان کی بات سنے بغیر صرف متاثرہ فریق کے دلائل کی بنیاد پر ہی درخواست خارج کر دی جو کہ منصفانہ نہیں ہے۔ جبکہ متاثرہ فریق کا کہنا ہے کہ ملزمان جان بوجھ کر سماعت کو ملتوی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاکہ معاملے میں تاخیر ہو سکے۔ ان کا یہ بھی الزام ہے کہ بار بار وقت مانگ کر عدالتی عمل کو متاثر کیا جا رہا ہے۔

















