مغربی بنگال کے گورنر سی وی آنند بوس نے جمعرات کو اچانک گورنر عہدہ سے استعفیٰ دے کر سبھی کو حیران کر دیا۔ وہ جمعرات کو دہلی میں تھے اور اس دوران ہی انھوں نے استعفیٰ نامہ صدر جمہوریہ کو بھیج دیا۔ موصولہ جانکاری کے مطابق تمل ناڈو کے گورنر سی وی روی کو عارضی طور سے مغربی بنگال کے گورنر عہدہ کی ذمہ داری بھی سونپی گئی ہے۔
مغربی بنگال اسمبلی انتخاب سے عین قبل گورنر کا استعفیٰ سیاسی طور سے بہت اہم تصور کیا جا رہا ہے۔ گورنر کے طور پر آنند بوس ابتدا سے ہی ریاست کے کئی ایشوز پر بے باک رائے رکھتے رہے ہیں۔ وہ مغربی بنگال کی ممتا بنرجی حکومت کی مختلف پالیسیوں پر تنقید بھی کرتے رہے ہیں۔ ان کی مدت کار میں کئی امور پر ریاست و گورنر کے درمیان تصادم دیکھنے کو ملا تھا۔
مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے گورنر کے اچانک استعفیٰ پر حیرت کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے سی وی آنند بوس کے استعفیٰ پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’’مجھے ابھی استعفیٰ کے پیچھے کی وجہ معلوم نہیں ہے۔ حالانکہ موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے مجھے حیرانی نہیں ہوگی اگر آنے والے ریاستی اسمبلی انتخاب سے ٹھیک پہلے گورنر پر مرکزی وزیر داخلہ نے کچھ سیاسی فائدے کے لیے دباؤ ڈالا ہو۔‘‘ انھوں نے یہ بھی کہا کہ مرکزی وزیر داخلہ نے ابھی مجھے بتایا کہ آر این روی کو مغربی بنگال کا گورنر بنایا جا رہا ہے۔ انھوں نے اس بارے میں طے رواج کے مطابق مجھ سے کبھی مشورہ نہیں لیا۔














