نئی دہلی: مرکزی حکومت نے لوک سبھا میں وقف ترمیمی بل پیش کر دیا، جس پر زبردست بحث جاری ہے۔ اپوزیشن نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے الزام لگایا کہ حکومت اسے زبردستی نافذ کرنا چاہتی ہے۔
بل پیش کرتے ہوئے اقلیتی امور کے وزیر کرن ریجیجو نے کہا کہ یہ بل کھلے ذہن کے ساتھ پیش کیا جا رہا ہے اور اس کا مقصد کسی بھی مذہبی ادارے میں مداخلت کرنا نہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اب تک کسی بھی بل پر اتنی زیادہ درخواستیں موصول نہیں ہوئیں۔ 284 وفود اور 25 ریاستوں کے وقف بورڈز نے اپنی رائے پیش کی ہے، جبکہ پالیسی سازوں اور ماہرین نے بھی اس پر تجاویز دی ہیں۔
اپوزیشن جماعتوں نے حکومت پر الزام لگایا کہ وہ اس بل کے ذریعے اقلیتوں کی زمینوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ کانگریس رہنما گورو گگوئی نے سوال اٹھایا کہ ’’بی جے پی مسلمانوں کے مفاد کی بات کر رہی ہے، لیکن چند روز قبل عید کے دوران انہیں سڑکوں پر نماز پڑھنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ یہ بل گمراہ کن ہے اور اس سے قانونی پیچیدگیاں مزید بڑھیں گی۔‘‘
انہوں نے مزید سوال کیا، ’’بی جے پی کے لوک سبھا میں اقلیتی برادری سے کتنے ممبران پارلیمنٹ ہیں؟ آج ان کی نظر ایک طبقے کی زمین پر ہے، کل کسی اور کمیونٹی کی زمین پر ہوگی۔ حکومت بھائی چارے کے ماحول کو خراب کرنا چاہتی ہے اور اس کا مقصد سماج میں تفرقہ ڈالنا ہے۔
گورو گگوئی نے 2013 میں وقف قوانین میں کی گئی ترامیم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت عوام میں یہ غلط تاثر پیدا کر رہی ہے کہ ہائی کورٹ کا اس معاملے میں کوئی کردار نہیں ہے۔ انہوں نے حکومت سے سوال کیا کہ وہ وقف ایکٹ کے سیکشن 97 کو کتنی بار نافذ کر چکی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "کیا حکومت یو اے پی اے جیسے سخت قوانین کو دیگر کمیونٹیز پر بھی لاگو کرے گی یا صرف مخصوص طبقے کے خلاف استعمال کرے گی؟”
انہوں نے امریکی کمیشن برائے مذہبی آزادی کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ "جب بین الاقوامی سطح پر ہندوستان میں اقلیتوں کے ساتھ ہونے والے سلوک پر تنقید کی جاتی ہے تو بی جے پی کو تکلیف ہوتی ہے، لیکن یہاں اقلیتوں کے حقوق کو محدود کرنے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔”
اپوزیشن نے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) پر بھی سوال اٹھائے۔ گورو گگوئی نے کہا کہ "ہم نے بہت سی جے پی سی دیکھی ہیں، لیکن ایسی جے پی سی نہیں دیکھی جہاں ایسے لوگ شامل ہوں جنہیں وقف قوانین کی بنیادی معلومات بھی نہ ہوں۔”
بل پیش ہونے سے قبل حکومت اور اپوزیشن دونوں نے اپنے اراکین پارلیمنٹ کے ساتھ اہم میٹنگیں کیں۔ لوک سبھا میں بحث کے لیے 8 گھنٹے مختص کیے گئے ہیں، جس میں بی جے پی کو 4 گھنٹے اور این ڈی اے کو 4 گھنٹے 40 منٹ دیے گئے ہیں۔