نئی دہلی: وقف ترمیمی بل کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ محمد جاوید نے عدالت عظمیٰ میں درخواست دائر کرتے ہوئے اسے آئین کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ بل مسلمانوں کے مذہبی و قانونی حقوق کو متاثر کرتا ہے اور آئین کے آرٹیکل 19، 25، 26 اور 29 کی خلاف ورزی کرتا ہے۔
بہار کے کشن گنج سے کانگریس کے رکن پارلیمنٹ محمد جاوید وقف سے متعلق مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) کے رکن بھی رہ چکے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ اس ترمیم سے مسلمانوں کے حقوق متاثر ہوں گے اور وقف املاک پر حکومت کا کنٹرول بڑھ جائے گا۔
دریں اثنا، وقف ترمیمی بل کے خلاف ملک کے مختلف شہروں میں احتجاج ہو رہے ہیں۔ کولکاتا کے پارک سرکس کراسنگ پر بڑی تعداد میں اقلیتی برادری کے افراد نے احتجاج کرتے ہوئے بل کی فوری واپسی کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بل مسلمانوں کی املاک ضبط کرنے کی ایک سازش ہے اور اقلیتوں کو بدنام کرنے کی کوشش ہے۔
اسی طرح، تمل ناڈو میں اداکار اور سیاستدان وجے کی پارٹی تملگا ویتری کژگم (ٹی وی کے) نے چنئی، مدورائی، کوئمبٹور، تروچیراپلی، توتوکوڈی اور تنجاور میں احتجاج کیا۔ پارٹی کے سیکریٹری جنرل این آنند کی قیادت میں کارکنوں نے حکومت مخالف نعرے لگائے اور کہا کہ مرکز کو وقف املاک کے معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔وجے نے اس بل کو ’غیر جمہوری‘ قرار دیا اور کہا کہ اگر اسے واپس نہیں لیا گیا تو ان کی پارٹی مسلمانوں کے قانونی جدوجہد میں ان کا ساتھ دے گی۔
کانگریس سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں نے بھی اس بل کی مخالفت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت اکثریت کی بنیاد پر اس بل کو زبردستی منظور کروا رہی ہے اور اقلیتی برادری کے حقوق پامال کیے جا رہے ہیں۔ وقف ترمیمی بل کے خلاف عوامی اور قانونی سطح پر مزاحمت بڑھتی جا رہی ہے اور سپریم کورٹ میں دائر درخواست اس معاملے کو مزید سنگین بنا سکتی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ عدالت عظمیٰ اس پر کیا فیصلہ دیتی ہے۔