مہاراشٹر کےاکولہ ضلع کے ایک چھوٹے سے گاؤں ’شرلا‘ کے رہنے والے حسین شاہ جو غربت اور کسمپرسی کی زندگی گزارتے ہوئے گاؤں میں بھنگار جمع کر کے اپنے اہل خانہ کا پیٹ پالتے تھے، ان کے فرزند روشن شاہ نے نامساعد حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے مہاراشٹر انجینئرنگ سروسز (ایم ای ایس) امتحان میں 18واں مقام حاصل کر کے کامیابی کے جھنڈے گاڑ دیئے۔ ایم ای ایس کا مقابلہ جاتی امتحان مہاراشٹر اسٹیٹ پبلک سروس کمیشن کے زیر اثر آتا ہے۔
کامیابی کے حصول کے لیے اس نوجوان کی جہدوجہد غریب و نادار طلبہ کیلئے ’روشن چراغ‘ کی طرح عیاں ہے کہ کس طرح مضبوط ارادے کے ساتھ ناسازگار اور نامواقف حالات کو مواقف کیا جا سکتا ہے اور کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔ ناسازگار حالات کو روشن نے اپنی زندگی میں رکاوٹ نہیں بننے دیا۔ روشن نے جب دسویں جماعت میں اپنی ذاتی محنت ومشقت کی بنیاد پر 92.40 فیصد مارکس حاصل کیے، تو اس دوران اس کے والد پر فالج کا شدید حملہ ہوا۔ والدہ اور چھوٹے بھائی کھیتوں میں مزدوری کر کے 2 وقت کی روٹی روزی کا انتظام کرتے۔ روشن بھی ان کے ساتھ کھیتوں میں کام کرنے پر مجبور ہوا۔
شرلا گاؤں، جہاں بمشکل 7 مسلم خاندان ہی آباد ہیں، روشن شاہ کے اہل خانہ 2 کمرے کے چھوٹے سے گھر میں رہائش پذیر ہیں۔ یہاں ایک کمرے میں کھانا تیار ہوتا ہے اور دوسرے کمرے میں بیٹھا جا سکتا ہے۔ 2017 میں دسویں جماعت میں روشن کی کامیابی کی خبر جب معروف مراٹھی روزنامہ اخبار ’لوک مت‘ کی زینت بنی کہ بھنگار جمع کرنے والے شخص کے بیٹے نے دسویں جماعت کے امتحان میں 92.40 فیصد نمبرات سے کامیابی حاصل کی ہے، تو اس خبر نے سبھی کو متاثر کیا۔ اکولہ کے معلم عبدالوہاب شیخ نے اس خبر کو پڑھنے کے بعد اس غریب بچے کی اعلی تعلیم کا خرچ برداشت کرنے کا ارادہ کیا۔ وہاب سر نے روشن کے والد سے ملاقات کی اور اس کے تعلیمی اخراجات کو برداشت کرنے کا یقین دلایا۔ بعد ازاں روشن کی ذہانت اور بہتر کارکردگی کو دیکھتے ہوئے مزید 2 مخیران غنی اللہ سر اور برہان عرب بھی ساتھ آئے اور تینوں مل کر روشن کی تعلیم، رہائش اور ضروری اخراجات کی ذمہ داری آپس میں تقسیم کر کے روشن کے مستقبل کو مزید روشن کرنے میں جٹ گئے۔


















