لکھنؤ: یوگی حکومت کے وزیر خزانہ سریش کھنہ نے یوپی اسمبلی میں اب تک کا سب سے بڑا 9,12,696 کروڑ روپے کا بجٹ پیش کیا۔ اس دوران انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہماری سابقہ اور موجودہ دونوں حکومتوں کے دور میں ریاست کے سبھی علاقوں میں ترقی ہوئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ایس ڈی جی انڈیا انڈیکس میں اترپردیش کی درجہ بندی بہتر ہوکر 2024-2023 میں 18 ویں نمبر پر آ گئی ہے۔
اپنے بجٹ خطاب میں وزیرخزانہ نے دعویٰ کیا کہ اترپردیش ہندوستان کا سب سے بڑا موبائل فون مینوفیکچرنگ کا مرکز بن گیا ہے۔ ملک کی کل موبائل فون مینوفیکچرنگ کی 65 فیصد پیداوار ریاست میں ہوتی ہے۔ بجٹ پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ سریش کمار کھنہ نے اہم شعبوں کے لیے مختص رقم کا خاکہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم اور صحت کی دیکھ بھال کے لیے رقم الاٹمنٹ بالترتیب کل بجٹ کا 12.4 اور 6 فیصد ہے۔ اس کے علاوہ زراعت اور متعلقہ خدمات کے لیے مختص رقم کل بجٹ کا 9 فیصد ہے۔
اپنی بجٹ تقریر میں وزیرخزانہ نے کہا کہ وزیراعظم کی رہنمائی اور وزیراعلیٰ کی قیادت میں ریاست میں جدید ٹیکنالوجی اورانفارمیشن ٹیکنالوجی تیزی سے پھیل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتر پردیش مستقبل قریب میں ملک کا آئی ٹی ہب بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت نے دیہی روزگار کو فروغ دینے کے لیے کھادی اور دیہی صنعتی سیکٹر میں بڑے التزامات کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ دیہی روزگار اسکیم کے تحت سال 27-2026 میں 800 نئی یونٹس قائم کی جائیں گی۔ اس کے لیے 40 کروڑ کے بینک قرض کا بندوبست کیا گیا ہے۔ اس سے 16,000 لوگوں کو روزگار فراہم کرنے کا ہدف ہے۔
اس کے علاوہ پنڈ دین دہال ولیج انڈسٹریز ایمپلائمنٹ اسکیم کے تحت دیہی اکائیوں کو بینک قرض پر سود سبسڈی فراہم کرنے کے لیے 10 کروڑ روپے فراہم کرنے کی تجویز ہے۔ گورکھپور کے کھجنی واقع کمبل پروڈکشن سینٹر کو جدید بنانے کے لیے 7.50 کروڑ روپے کی ایک نئی اسکیم متعارف کرائی گئی ہے۔ ماٹی کلا کے روایتی کاریگروں کی بہبود کے لئے ’ماٹی کلا انٹیگریٹڈ ڈیولپمنٹ پروگرام‘ کے لیے 13 کروڑ روپے کا بندوبست کیاگیا ہے۔