راہل گاندھی نے یہ بات ایم ڈی ایم کے رہنما وائیکو کی کتاب ’وائیکو اِن پارلیمنٹ‘ کی رسم اجرا کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے وزیر اعظم کے اس بیان کا حوالہ دیا جس میں احتجاج کرنے والے نوجوانوں کو ’گمراہ‘ قرار دیتے ہوئے انہیں معاف کرنے کی بات کہی گئی تھی۔
انہوں نے کہا، ’’ہندوستان اس وقت ایک عجیب دور سے گزر رہا ہے۔ طلبہ شدید تکلیف میں سڑکوں پر ہیں، انہیں روزگار نہیں مل رہا، وہ امتحانات میں انصاف اور ایسا تعلیمی نظام چاہتے ہیں جو صحیح معنوں میں کام کرے۔ دوسری جانب وزیر اعظم انہیں معاف کرنے کی بات کر رہے ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ ہندوستان کے مستقبل کو معاف کرنے کا اختیار انہیں کس نے دیا۔
کانگریس رہنما نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی، ان کے ساتھیوں اور بالخصوص راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی سوچ ملک کے لیے خطرناک ہے، کیونکہ یہ ہندوستان کی آئینی اور ثقافتی بنیادوں سے مطابقت نہیں رکھتی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان کا آئین ملک کو مختلف ریاستوں کے مرکز کے طور پر تسلیم کرتا ہے اور ہر ریاست اپنی الگ تاریخ، زبان، ثقافت اور عوامی شناخت کی نمائندہ ہے۔
راہل گاندھی نے کہا کہ تمل ناڈو، مہاراشٹر، مغربی بنگال، کیرالہ اور دیگر ریاستیں صرف جغرافیائی اکائیاں نہیں بلکہ اپنی منفرد تہذیب، زبان، تاریخ اور عوامی جذبات کی علامت ہیں۔ ان کے مطابق ہر ریاست کو اپنی شناخت کے اظہار اور مساوی سلوک کا آئینی حق حاصل ہے۔

















