کرناٹک کے منگلورو شہر میں آلودہ پانی پینے سے 100 سے زائد لوگ سنگین طبی مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ لوگوں کا الزام ہے کہ افسران کی لاپرواہی کی وجہ سے لوگوں کی صحت کے ساتھ کھلواڑ ہو رہا ہے۔ منگلورو کے بجئی نیو روڈ اور بٹا گڈ ڈے علاقہ میں گزشتہ 4-3 ہفتے سے گھروں میں آنے والے پانی میں نالوں کی گندگی آ رہی ہے۔ اس پانی کا استعمال کرنے والے بزرگوں اور بچوں میں الٹیاں، اسہال، پیٹ درد اور دیگر انفیکشن سے متعلق مسائل تیزی سے بڑھے ہیں۔ شروعات میں لوگوں نے اسے عام موسمی انفیکشن سمجھا لیکن جب پورے علاقے میں ایک جیسی شکایات سامنے آنے لگیں تو حالات کی سنگینی کا پتہ چلا۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ کئی خاندانوں کے لوگ لگاتار بیمار پڑ رہے ہیں۔ کئی لوگوں نے اینٹی بایوٹک دوائیوں کا استعمال بھی کیا لیکن صحت میں کوئی خاص بہتری نہیں ہوئی۔ اس سے علاقے میں تشویش اور خوف ہراس کا ماحول پیدا ہو گیا ہے۔ بیماری کے کیسز میں مسلسل اضافہ ہونے پر مقامی شہریوں نے محکمہ صحت کی مدد سے پانی کے نمونوں کی جانچ کروائی۔ جانچ رپورٹ میں سامنے آیا کہ مہانگر پالیکا کے ذریعہ سپلائی کیا جا رہا پانی پینے لائق نہیں ہے۔ لیب رپورٹ میں صاف طور سے کہا گیا ہے کہ یہ پانی کسی بھی حالت میں انسانی استعمال کے لئے محفوظ نہیں مانا جا سکتا ہے۔
رپورٹ سامنے آنے کے بعد علاقے کے لوگ اب مجبوری میں مہنگی قیمتوں پر پیکیجڈ ڈرنکنگ واٹر اور پانی کے کین خرید کر استعمال کر رہے ہیں۔ اس سے لوگوں پر اضافی مالی بوجھ بھی بڑھ رہا ہے۔ مقامی لوگوں کو اندیشہ ہے کہ شہر کے کئی حصوں میں پینے کے پانی کی پائپ لائن اور ڈرینیج لائنیں ایک دوسرے کے بہت قریب بچھائی گئی ہیں۔ حال ہی میں ہوئے کسی مرمتی کام کے دوران پائپ لائن خراب ہونے یا ٹوٹنے سے سیور کا پانی پائپ لائن میں مل گیا ہو سکتا ہے۔ لوگوں نے مطالبہ کیا ہے کہ کارپوریشن کے تکنیکی ماہرین اور انجینئر فوری موقع پر پہنچ کر پائپ لائن کی جانچ کریں اور رساؤ کا پتہ لگائیں۔















