مکامہ سے جے ڈی یو رکن اسمبلی اننت سنگھ کو پٹنہ ہائی کورٹ سے ضمانت مل گئی ہے، وہ جمعہ یا ہفتہ تک جیل سے باہر آ سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ گزشتہ بہار اسمبلی انتخاب کے وقت پرشانت کشور کی جن سوراج پارٹی کے کارکن دلارچند یادو کا مکامہ ٹال میں قتل کر دیا گیا تھا۔ اسی معاملے میں اننت سنگھ جیل میں بند تھے۔ حال ہی میں راجیہ سبھا انتخاب کے دوران جیل سے آ کر ووٹ ڈالنے کے بعد اننت سنگھ نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ جلد ہی جیل سے باہر آ جائیں گے۔ اس سے قبل پٹنہ سول کورٹ میں ایم پی ایم ایل اے کورٹ نے اننت سنگھ کو اس معاملے ضمانت دینے سے انکار کر دیا تھا۔ عدالت نے ضمانت کی درخواست مسترد کرنے کی وجہ الزامات کی سنگینی قرار دیا تھا۔
واضح رہے کہ اننت سنگھ کو دلارچند قتل معاملہ میں گزشتہ سال یکم نومبر کو ان کی مکامہ رہائش گاہ سے گرفتار کیا گیا تھا۔ تقریباً 4 ماہ بعد ان کو ضمانت ملی ہے۔ گزشتہ سال بہار اسمبلی انتخاب کی ہلچل کے درمیان 30 اکتوبر کو مکامہ میں دلارچند یادو کا قتل کر دیا گیا تھا۔ اس قتل کا الزام اننت سنگھ اور ان کے حامیوں پر لگا تھا، جس کے بعد ایس ایس پی کارتکیہ شرما نے انہیں گرفتار کیا تھا۔
راجیہ سبھا میں ووٹ ڈالنے آئے جے ڈی یو رکن اسمبلی نے اعلان کیا تھا کہ ’’جب نتیش کمار ہی بہار کے وزیر اعلیٰ نہیں رہیں گے تو ہم کیا کریں گے، یہ ہمارا آخری الیکشن ہے۔‘‘ اننت سنگھ نے مسلسل 6 بار مکامہ سیٹ سے جیت حاصل کی ہے۔ انہوں نے پہلی بار فروری 2005 میں اور پھر اسی سال اکتوبر میں بھی جیت حاصل کی تھی۔ نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اب ان کے بیٹے ان کی جگہ انتخاب لڑیں گے۔
اننت سنگھ اس سے قبل بھی بہار اسمبلی کے بجٹ سیشن کے دوران جیل سے باہر آئے تھے۔ دراصل اس وقت اننت سنگھ رکن اسمبلی کے عہدے کا حلف لینے کے لیے جیل سے نکلے تھے۔ سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان اننت سنگھ جیل سے سیدھے بہار اسمبلی پہنچے تھے اور وہاں اپنے عہدے کا حلف اٹھایا تھا۔ اس وقت اننت سنگھ نے ایوان میں موجود وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے پیر چھوئے تھے اور انہیں ’پرنام‘ بھی کیا تھا۔











