نئی دہلی: جماعت اسلامی ہند نے ہندوستان اور امریکہ کے درمیان طے پانے والے ٹیرف معاہدے اور اس سے متعلق سامنے آنے والی معلومات پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جماعت اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ ٹیرف معاہدے کے تعلق سے نہ تو پارلیمنٹ کو اور نہ ہی ملک کے عوام کو اعتماد میں لیا گیا ہے۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ اس معاہدے سے متعلق معلومات زیادہ تر سوشل میڈیا رپورٹس اور امریکی حکام کے بیانات کے ذریعے سامنے آ رہی ہیں۔ امریکہ سے آنے والے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہندوستان امریکی مصنوعات پر ٹیرف صفر تک کم کر سکتا ہے، جبکہ امریکہ ہندوستانی برآمدات پر تقریباً 18 فیصد ٹیرف عائد کرے گا۔ اگر یہ دعوے درست ہیں تو یہ معاہدے کے توازن پر سنگین سوالات کھڑے کرتے ہیں۔ مزید تشویش کی بات یہ ہے کہ جن ٹیرف سطحوں کو اس وقت کامیابی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے وہ دراصل پہلے سے موجود شرحوں سے کہیں زیادہ ہیں۔ سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ جماعت اسلامی ہند اس بات پر بھی فکر مند ہے کہ ابھی تک امریکی ٹیرف سے محفوظ رہنے والے زرعی شعبے کو امریکہ کے لیے کھولا جا رہا ہے۔اس اقدام سے کسانوں کی روزی روٹی اور غذائی تحفظ خطرے میں پڑ سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ روس سے ہندوستان کی تیل خریداری سے متعلق امریکی دعوے نے مزید کنفیوزن پیدا کر دیا ہے۔ کیونکہ اس سلسلے میں حکومت کی جانب سے نہ تو اس کی تصدیق کی گئی ہے اور نہ تردید سامنے آئی ہے۔حکومت کے رویے سے اس کی خودمختاری اور قوت فیصلہ پر شدید خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
یونین بجٹ 2026–27 کے حوالے سے بات کرتے ہوئے سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ اگرچہ حکومت نے معاشی استحکام، سرمائے کے اخراجات اور مالیاتی نظم و ضبط پر زور دیا ہے، لیکن روزگار کے مواقع پیدا کرنے، سماجی شعبے کی ضروریات، بڑھتی ہوئی معاشی عدم مساوات اور عوامی قرض کے بڑھتے ہوئے بوجھ جیسے اہم مسائل کو حل کرنے میں موجودہ بجٹ ناکام رہا ہے۔ 12.2 لاکھ کروڑ روپے سے زائد کا ریکارڈ سرمائے کا خرچ طویل مدتی بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں مدد دے سکتا ہے۔ خاص طور پر غیر منظم شعبے کے مزدوروں، دیہی گھرانوں، خواتین اور نوجوانوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سماجی شعبے اور صحت و تعلیم پر فنڈز قومی پالیسی کے اہداف سے بہت کم ہیں۔ فلاحی اسکیموں میں فنڈز کی کمی بڑھتے ہوئے قرضوں پر انحصار مالی گنجائش کو محدود اور ضروری سماجی اخراجات کو متاثر کرتے ہیں۔ سید سعادت اللہ حسینی نے اس بات کو دہرایا کہ انسانی ترقی اور سماجی انصاف میں مناسب سرمایہ کاری کے بغیر معاشی ترقی اور پائیدار پیش رفت ممکن نہیں ہے ۔
فرقہ وارانہ اور ذات پات پر مبنی تشدد کے مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر ملک معتصم خان نے مذہبی اقلیتوں، دلت برادریوں اور سماجی طور پر محروم طبقات کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد اور امتیازی سلوک کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے ان رپورٹوں کا حوالہ دیا جن کے مطابق 2025 میں نفرت انگیز تقریروں کے 1,318 واقعات ریکارڈ کیے گئے، جن میں سے 98 فیصد بیانات میں مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ ملک بھر میں ذات پات کی بنیاد پر متعدد مظالم بھی سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات آئینی اقدار اور سماجی ہم آہنگی کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔ اتراکھنڈ کے کوٹدوار واقعے کا ذکر کرتے ہوئے ملک معتصم خان نے کہا کہ کچھ بہادر نوجوانوں نے ایک مسلم تاجر کو فرقہ وارانہ حملے سے بچانے کی کوشش کی، لیکن فسادات کے اصل ذمہ داروں کو گرفتار کرنے کے بجائے پولیس نے انہی نوجوانوں کے خلاف ایف آئی آر درج کر دی۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کی یہ کارروائی قانون اور انصاف کا سراسر مذاق ہے۔ملک معتصم خان نے کہا کہ بے قابو ہوتی جا رہی فرقہ واریت اور ذات پات کی نفرت ملک کے جمہوری ڈھانچے اور سماجی یکجہتی کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔ انہوں نے تمام طرح کے فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات کی فوری تحقیقات، قانونی تحفظ، موجودہ قوانین کے نفاذ اور انصاف کے فروغ کے لیےمؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا۔


















