لو جہاد کے ایک فرضی معاملہ میں آج اقلیتی طبقہ سے تعلق رکھنے والے اس شخص کو عدالت سے راحت ملی، جس نے کئی ماہ تک قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ بھوپال کی خصوصی عدالت نے آج ملزم ساحل خان کو لو جہاد سے جڑے سبھی الزامات سے بری کر دیا۔ ساحل اس معاملے میں تقریباً 9 ماہ 22 دن تک عدالتی حراست میں قید رہا۔
معاملہ بھوپال کے جہانگیر آباد تھانہ حلقہ کا ہے۔ اس مقدمہ کی سماعت خصوصی جج جسٹس راجرشی شریواستو کی عدالت میں ہوئی۔ عدالت نے اپنے حکم میں واضح کیا کہ شکایت دہندہ اور ملزم کے درمیان پہلے سے ہی معاشی لین دین والا رشتہ تھا، یہ ’لو جہاد‘ کے لیے دھوکہ کا معاملہ نہیں ہے۔
دراصل شکایت دہندہ خاتون نے پولیس میں تحریری شکایت دی تھی کہ ساحل نے اپنا اصل نام چھپا کر خود کو راہل بتایا۔ خاتون کے مطابق دونوں کے درمیان بات چیت کی ابتدا سوشل میڈیا اور میسجنگ کے ذریعہ ہوئی تھی۔ بعد میں ساحل نے شادی کا وعدہ کر اسے اپنے گھر لے جانے کی بات کہی۔ شکایت دہندہ خاتون نے الزام عائد کیا تھا کہ جب وہ ساحل کے ساتھ جہانگیر آباد واقع اس کے گھر پہنچی تو وہاں کوئی موجود نہیں تھا۔ اس کے بعد ساحل نے شادی کا جھانسہ دے کر اس کے ساتھ جسمانی تعلقات قائم کیے۔ خاتون نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ واقعہ دسمبر 2020 سے 2024 کے درمیان کا ہے۔
جب اس معاملہ کی سماعت عدالت میں ہوئی تو شکایت دہندہ خاتون نے اعتراف کیا کہ ساحل اور اس کے درمیان معاشی لین دین ہوتا تھا۔ اس نے بیان میں کہا کہ جب بھی اسے پیسوں کی ضرورت ہوتی تھی، ساحل اس کی مدد کرتا تھا۔ خاتون کے مطابق ساحل نے اسے مجموعی طور پر تقریباً 12 ہزار روپے دیے تھے۔ عدالت نے اس بات کو اہم تصور کرتے ہوئے اپنے حکم میں کہا کہ جب ساحل نے پیسے واپس مانگے، تب دونوں کے درمیان تنازعہ شروع ہوا۔ عدالت نے یہ بھی مانا کہ اسی تنازعہ کے بعد ساحل کے خلاف معاملہ درج کرایا گیا۔


















