• Home
پیر, جون 29, 2026
No Result
View All Result
हिंदी समाचार
Qaumi Tanzeem | Urdu Daily Newspaper | Patna | Ranchi | Lucknow
Epaper
  • صفحہ اول
  • قومی خبریں
  • بہار
    صرف رام کا نام لینے سے کام نہیں چلے گا، ان کی تعلیمات پر عمل بھی کرنا ہوگا۔تیجسوی

    تیجسوی پرساد یادو کا ’ریشو شری ٹینڈر گھوٹالہ‘ کو لے کر این ڈی اے حکومت پر سخت حملہ

    بھرت تیواری پوسٹ مارٹم رپورٹ میں 5 گولیاں لگنے کا انکشاف

    بھرت تیواری پوسٹ مارٹم رپورٹ میں 5 گولیاں لگنے کا انکشاف

    گوپال گنج میں شراب سے لدی  کار درخت سے ٹکرائی

    گوپال گنج میں شراب سے لدی کار درخت سے ٹکرائی

    نتیش کمار اور جیتن رام مانجھی کو بھی سرکاری بنگلہ خالی کرنے کا نوٹس دینے کا مطالبہ

    سابق وزیر تیج پرتاپ یادو کے گھر کی چوری میں آیا نیا موڑ

    بھرت تیواری کے گاؤں بلوٹی میں کل جماعتی مہاپنچایت کا انعقاد

    بھرت تیواری کے گاؤں بلوٹی میں کل جماعتی مہاپنچایت کا انعقاد

    بھرت تیواری  انکاؤنٹر میں شامل پولیس اہلکاروں پر ایف آئی آر درج

    بھرت تیواری انکاؤنٹر میں شامل پولیس اہلکاروں پر ایف آئی آر درج

    نیٹ یو جی ری-ایگزام کے دوران  ایک بڑے ’سالور گینگ‘ کا پردہ فاش

    نیٹ یو جی ری-ایگزام کے دوران ایک بڑے ’سالور گینگ‘ کا پردہ فاش

    بہار کا بھرت تیواری انکاؤنٹر معاملہ  سپریم کورٹ پہنچا

    بہار کا بھرت تیواری انکاؤنٹر معاملہ سپریم کورٹ پہنچا

    سپول میں ’شراد‘ کی دعوت کھا کر 150 سے زیادہ لوگ بیمار

    سپول میں ’شراد‘ کی دعوت کھا کر 150 سے زیادہ لوگ بیمار

  • عالمی خبریں
  • ادبیات
  • تعلیم و روزگار
  • خواتین
  • انٹرٹینمنٹ
  • صفحہ اول
  • قومی خبریں
  • بہار
    صرف رام کا نام لینے سے کام نہیں چلے گا، ان کی تعلیمات پر عمل بھی کرنا ہوگا۔تیجسوی

    تیجسوی پرساد یادو کا ’ریشو شری ٹینڈر گھوٹالہ‘ کو لے کر این ڈی اے حکومت پر سخت حملہ

    بھرت تیواری پوسٹ مارٹم رپورٹ میں 5 گولیاں لگنے کا انکشاف

    بھرت تیواری پوسٹ مارٹم رپورٹ میں 5 گولیاں لگنے کا انکشاف

    گوپال گنج میں شراب سے لدی  کار درخت سے ٹکرائی

    گوپال گنج میں شراب سے لدی کار درخت سے ٹکرائی

    نتیش کمار اور جیتن رام مانجھی کو بھی سرکاری بنگلہ خالی کرنے کا نوٹس دینے کا مطالبہ

    سابق وزیر تیج پرتاپ یادو کے گھر کی چوری میں آیا نیا موڑ

    بھرت تیواری کے گاؤں بلوٹی میں کل جماعتی مہاپنچایت کا انعقاد

    بھرت تیواری کے گاؤں بلوٹی میں کل جماعتی مہاپنچایت کا انعقاد

    بھرت تیواری  انکاؤنٹر میں شامل پولیس اہلکاروں پر ایف آئی آر درج

    بھرت تیواری انکاؤنٹر میں شامل پولیس اہلکاروں پر ایف آئی آر درج

    نیٹ یو جی ری-ایگزام کے دوران  ایک بڑے ’سالور گینگ‘ کا پردہ فاش

    نیٹ یو جی ری-ایگزام کے دوران ایک بڑے ’سالور گینگ‘ کا پردہ فاش

    بہار کا بھرت تیواری انکاؤنٹر معاملہ  سپریم کورٹ پہنچا

    بہار کا بھرت تیواری انکاؤنٹر معاملہ سپریم کورٹ پہنچا

    سپول میں ’شراد‘ کی دعوت کھا کر 150 سے زیادہ لوگ بیمار

    سپول میں ’شراد‘ کی دعوت کھا کر 150 سے زیادہ لوگ بیمار

  • عالمی خبریں
  • ادبیات
  • تعلیم و روزگار
  • خواتین
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Qaumi Tanzeem | Urdu Daily Newspaper | Patna | Ranchi | Lucknow
No Result
View All Result
ADVERTISEMENT
Home قومی خبریں

یکسانیت لانے کے لیے بنیادی حقوق میں مداخلت نہیں کی جا سکتی!

لاکمیشن کو آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کا تفصیلی مکتوب

by Qaumi Tanzeem
جولائی 14, 2023
in قومی خبریں
0
یکسانیت لانے کے لیے بنیادی حقوق میں مداخلت نہیں کی جا سکتی!

نئی دہلی: آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت نے لا کمیشن آف انڈیا کو خط لکھ کر متنبہ کیا ہے کہ یکسانیت لانے کے نام پر شہریوں کے بنیادی حقوق میں مداخلت نہیں کی جاسکتی اور یہ کہ یکساں سول کوڈ کے طرفداروں کے افکار و نظریات میں خود بھی تضادات ہیں اور وہ قبائل اور عیسائیوں کو اس سےمستثنیٰ رکھنے کی بات کررہے ہیں تو پھر وہ بحث جس کو ابھی چند ہی سال پہلے لاکمیشن نے طے کر دیا تھا کہ یہ نہ ضروری ہے اور نہ مطلوب اس کو دوبارہ زندہ کرنے کا کیا جواز ہے۔

مسلم تنظیموں کے وفاق نے اپنے تین صفحات کے تفصیلی اور مدلل مکتوب میں بعض لوگ جس گوا سول کوڈ کو نمونہ بتا رہے ہیں، وہ ایک تو عہد غلامی کی نشانیوں میں سے ایک ہے اور اس میں بھی سارے فرقوں کے لیے ایک قانون نہیں ہے، عیسائیوں اور ہندؤں کے لیے اس میں الگ الگ التزامات موجود ہیں۔ مشاورت نے اس مکتوب میں اس بحث کو اٹھانے کی منشا پر سوال اٹھاتے ہوئے لکھا ہے کہ موجودہ بحث کا وقت بہت سے سوالات کو جنم دیتا ہے۔ سیاسی طبقے میں غیر ذمہ دار عناصر عام انتخابات کے موقع پر جذبات کو بھڑکانے اور ملک کے ماحول کو خراب کرنے کے لیے یکساں سول کوڈ کے خیال کو ہتھیار بنائیں گے۔ اشتعال انگیز بیانات یکساں سول کوڈ کے حوالے سے دیے جارہے ہیں تاکہ ذاتی مفادات کی تکمیل اور انتخابی فوائد حاصل کیے جاسکیں۔

مشاورت کے صدر فیروز احمد ایڈوکیٹ کے دستخط سے لاکمیشن آف انڈیا کے ممبر سکریٹری کو موصول کرائے گئے خط میں کہا گیا کہ آپ نے ہدایت کی ہے کہ جو لوگ یکساں سول کوڈ پر اپنی رائے دینا چاہتے ہیں وہ 30 دنوں کے اندر ایسا کریں۔ ہمارے ملک کے لیے اتنے کثیر اثرات کے کسی معاملے میں آپ کی طرف سے دی گئی 30 دن کی مختصر مدت بالکل ناکافی ہے۔ مذکورہ خط کی ایک نقل حوالہ کے لیے منسلک ہے۔

ہمارے خیال میں یکساں سول کوڈ ان اقدار کے موافق نہیں ہوگا جو ہندوستان کے آئین کی روح ہیں۔ مزید برآں، جیسا کہ ذیل میں وضاحت کی گئی ہے، یکساں سول کوڈ کے بارے میں حکومت کا اپنا نظریہ تضادات سے بھرا ہوا ہے۔ عرض ہے کہ پورے ملک کے لیے مشترکہ سول کوڈ کے خیال میں مختلف مسائل موجود ہیں جن کی میں نے ذیل میں نشاندہی کی ہے

قابل ذکر ہے کہ 21 ویں لاء کمیشن نے 2018 میں اپنے مشاورتی مقالے میں جس کا عنوان ’خاندان کی اصلاح‘ تھا، صفحہ 7 پر کہا تھا کہ یکساں سول کوڈ نہ تو ضروری ہے اور نہ ہی مطلوب ہے۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ اس کے بعد سےصورت حال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے جو خود لاء کمیشن کے نظریہ پر نظرثانی کی ضمانت دیتا ہے۔ میری گذارش یہ ہے کہ لاء کمیشن کے ذریعہ طے شدہ مسئلہ کو دوبارہ کھولنے سے قانون کی حکمرانی کے لئے بڑےمنفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور لا کمیشن کی طرف سے دوبارہ اس طرح کی مشق کی جار ہی ہے۔

حزب اقتدار کے ذمہ داران نے کہا ہے کہ شیڈولڈ ٹرائب کو یکساں سول کوڈ کے دائرے سے باہر رکھا جائے گا۔ خبروں کے مطابق مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ اور پارلیمانی قائمہ کمیٹی برائے عملہ، عوامی شکایات، قانون و انصاف کے سربراہ جناب سشیل مودی کا خیال ہے کہ قبائلیوں کویکساں سول کوڈ کے دائرے سے باہر رکھا جانا چاہیے۔ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ یکساں سول کوڈ کا ظاہری مقصد یعنی یکسانیت ناکام ہو جائے گا اگر شہریوں کے ایک بڑے حصے کو اس کے اطلاق سے مستثنیٰ قرار دیا جائے۔ مزید برآں، اس سے یہ بھی ظاہر ہے کہ یکساں سول کوڈ کے حق میں رائے رکھنے والے خود اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ ہندوستان جیسے متنوع ملک میں قانون کے معاملات میں بھی مختلف شناختوں کو ملحوظ رکھا جانا چاہیے۔

خط میں مزید کہا گیا کہ یکساں سول کوڈ کا سوال بنیادی حقوق سے متعلق ہے۔ آئین کی دفعہ 25 ہندوستان کے شہریوں کو آزادی سے اپنے مذہب پر عمل کرنے کا حق دیتا ہے۔ یونیفارم سول کوڈ مذکورہ حق میں مداخلت کرے گا کیونکہ یہ اس حق کو متاثر کرتا ہےکہ شہری اپنی زندگیاں اپنے مذہب کے احکام کے مطابق گزاریں۔ نیز شادی، طلاق، تبنیت وسرپرستی، تحویل اور وراثت جیسے مسائل کا تعلق خاندانی امور سے ہے۔ اگر ریاست یکسانیت کی جستجو میں سب پر ایک قانون نافذ کرتی ہے تو خاندان کا تقدس اور رازداری ختم ہو جائے گی۔ ایک ایسے وقت میں جب ہندوستانی فہم پرائیویسی اور نجی انتخاب کے حوالے سے تیزی سے قابل احترام ہوتا جا رہا ہے، اگر ریاست مذہب پرمبنی انتہائی ذاتی انتخاب پر پابندی لگاتی ہے تو یہ انصاف کی بے حرمتی ہوگی۔

اس کے علاوہ یکساں سول کوڈ کے مطالبات نے ہندوستان میں اقلیتی برادریوں کو شدید پریشان کیا ہے۔ اگرچہ بعض حلقوں میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ یکساں سول کوڈ کی مخالفت صرف مسلم کمیونٹی میں موجود ہے لیکن سکھ اور عیسائی فرقے حکومت کی جانب سے یکساں سول کوڈ کو آگے بڑھانے کی حالیہ کوششوں سے سخت پریشان ہیں۔ پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت مان نے یکساں سول کوڈ کے خیال کی سخت مذمت کی ہے۔ شرومنی اکالی دل (دہلی) کے صدر جناب پرمجیت سرنا نے لا کمیشن کو لکھے اپنے خط میں اس موضوع پر اسی طرح کے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ شرومنی گرودوارہ پربندھک کمیٹی نے یکساں سول کوڈ کی سخت مخالفت کی ہے۔

مسیحی برادری نے بھی یکساں سول کوڈ کے خلاف کھلے عام اپنی مخالفت کا اظہار کیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذہبی اقلیتیں اس بات پر پختہ یقین رکھتی ہیں کہ یکساں سول کوڈ کا نفاذ مذہبی آزادی میں مداخلت کے مترادف ہوگا۔ گوا سول کوڈ کو یکساں سول کوڈ کے طرفداروں کی طرف سے اکثر مساوات کا نمونہ کہا جاتا ہے کیونکہ وہاں ایک مشترکہ سول کوڈ ہے۔ گوا کے وزیر اعلیٰ نے رائے دی کہ ان کی ریاست میں سول کوڈ ملک کے لیے ایک ماڈل کے طور پر کام کر سکتا ہے۔ پارلیمانی کمیٹی برائے قانون نے یکساں سول کوڈ کے خیال کی جانچ کرتے ہوئے گوا قانون پر بھی خصوصی توجہ دی۔ یہ خیال درست نہیں ہے کہ گوا میں صحیح معنوں میں یکساں قانون ہے۔ گوا کے ضابطہ کے مطابق جسے پرتگالی نوآبادیاتی حکومت نے نافذ کیا تھا، کیتھولک دوسرے لوگوں کے برعکس سول رجسٹرار سے این او سی حاصل کرنے کے بعد چرچ میں اپنی شادیاں کر سکتے ہیں۔ گوا کے ہندوؤں کے رسم و رواج کو تسلیم کیا گیا ہے۔ بعض پابندیوں کے ساتھ ہندوؤں کو تعدد ازدواج کی اجازت دی گئی ہے۔ یہ واقعی ستم ظریفی ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب پوری دنیا بشمول شمال مشرق کے کچھ حصے تاریخ اور ثقافت کو مسخ کر رہے ہیں، ہندوستان کے کچھ طبقے پورے ملک کے لیے ایک نمونہ کے طور پر نوآبادیاتی حکمرانی کی نشانیوں کو زندہ رکھنا چاہتے ہیں۔

یہ نظریہ کہ ایک ملک میں سارے طبقات اور معاشروں کے لیے صرف ایک قانون ہونا چاہیے۔ ہندوستان کے وزیر اعظم نے حال ہی میں کہا تھا کہ ایک ایسا خاندان جہاں مختلف قوانین مختلف ارکان پر حکومت کرتے ہیں وہ کام نہیں کر سکتا۔ یونیفارم سول کوڈ کے دوسرے حامی بھی یہی منطق استعمال کرتے ہیں لیکن ہمارے قانونی نظام کے بنیادی اصولوں میں بھی یہ صحیح نہیں ہے۔ ریاستیں ریاستی موضوعات پر اپنے قوانین بنانے کے لیے آزاد ہیں۔ سیول پروسیجر کوڈ، کریمنل پروسیجر کوڈ اور تعزیرات ہند جیسے متعلقہ موضوعات پر ریاستیں باقاعدگی سے اپنے قوانین میں ترمیم کرتی ہیں۔ یکساں سول کوڈ پر دستور ساز اسمبلی کی بحث میں اس طرح کے قوانین کو اس نظریے کے حق میں پیش کیا گیا تھا کہ تجربے نے ثابت کیا تھا کہ پورے ہندوستان میں ایک قانون کا اطلاق ممکن ہے۔ تاہم، ان قوانین پر ایک نظر ڈالنے سے پتہ چلتا ہے کہ بالآخر، ان کو ریاستی مقننہ کے ذریعہ صوبائی ضروریات کے مطابق بنایا جانا تھا۔

پنجم، حکومت نے خود یہ واضح نہیں کیا کہ آیا اس کے پاس کوئی بنیادی خاکہ یانمونہ ہے جس کی بنیاد پرمسئلہ کے فریق اپنی رائے دے سکتے ہیں۔ خبروں سے پتہ چلتا ہے کہ اتراکھنڈ کے مسودے کو ملک گیر سول کوڈ کےنمونے کے طور پرلیا جا رہا ہے لیکن خود اتراکھنڈ کا مسودہ عوامی ڈومین میں نہیں ہے۔ یکساں سول کوڈ پر شاید ہی کوئی منظم بحث ہو جب تک کہ کوئی بنیادی مسودہ نہ ہو جس کا دلچسپی رکھنے والے فریق تنقیدی طور پر جائزہ لے سکیں۔

مزید یہ کہ آئینی درجہ بندی میں یکساں سول کوڈ کے مقام پر غور کرنا ضروری ہے۔ آئین کے آرٹیکل 44 میں کہا گیا ہے کہ ریاست ہندوستان کے پورے علاقے میں یکساں سول کوڈ کو نافذ العمل بنانے کی کوشش کرے گی۔ بلاشبہ، آئین کا اس خیال سے جو مراد ہے وہ ظاہر و باہرہے، اسے ریاستی پالیسی کےرہنما اصولوں میں رکھا گیا تھا، اور اسے لازمی نہیں بنایا گیاکیونکہ آئین بنانے والوں کو احساس تھا کہ شہریوں کے کسی بھی طبقے کو ان کے عقیدے اور ثقافت سے جڑے قوانین کو ترک کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ اس لیے انہوں نے یہ معاملہ آئندہ نسلوں کے سپرد کر دیا۔ دوسری طرف، پرسنل لاز جن کی جڑیں مذہب میں ہیں،ان کو آرٹیکل 25 کا تحفظ حاصل ہے۔ یہ ظاہر ہے کہ ہمارے آئینی فریم ورک میں بنیادی حقوق کو زیادہ اہمیت حاصل ہے، اس لیے یکسانیت کے نفاذ کے لیے پرسنل لاز میں مداخلت نہیں کی جانی چاہیے۔

آخر میں عرض ہے کہ موجودہ بحث کا وقت بہت سے سوالات کو جنم دیتا ہے۔ یہ مسئلہ لوک سبھا کے عام انتخابات کے موقع پر پیدا ہوا ہے۔ ایک معقول اندیشہ ہے کہ سیاسی طبقے میں غیر ذمہ دار عناصر جذبات کو بھڑکانے اور ملک کے ماحول کو خراب کرنے کے لیے یکساں سول کوڈ کے خیال کو ہتھیار بنائیں گے۔ اشتعال انگیز بیانات یکساں سول کوڈ کے حوالے سے دیے جارہے ہیں تاکہ ذاتی مفادات کی تکمیل اور انتخابی فوائد حاصل کیے جاسکیں۔ اس حقیقت کے پیش نظر کہ یکساں سول کوڈ کی تجویز پر غور کرنے کی کوئی عجلت نہیں ہے، یہ عرض کیا جاتا ہے کہ موجودہ بحث کو ایک یا دو سال تک ملتوی کیا جا سکتا تھا۔

Qaumi Tanzeem

Qaumi Tanzeem

Related Posts

گجرات میں مساجد، درگاہوں اور دیگر مذہبی املاک کے انہدام کے معاملے پر جمعیۃ علماء ہند سرگرم
قومی خبریں

گجرات میں مساجد، درگاہوں اور دیگر مذہبی املاک کے انہدام کے معاملے پر جمعیۃ علماء ہند سرگرم

by Qaumi Tanzeem
جون 29, 2026
کاکروچ تحریک میں شدت، دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ
قومی خبریں

کاکروچ تحریک میں شدت، دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ

by Qaumi Tanzeem
جون 29, 2026
اسپیکر کا فیصلہ جمہوریت کے قتل کے مترادف۔ ادھو ٹھاکرے
قومی خبریں

رام مندر ہندوؤں کا مذہبی مقام ہے، لیکن بی جے پی نے وہاں دکان کھول لی ہے-ادھو ٹھاکرے

by Qaumi Tanzeem
جون 29, 2026
23 جنوری سےرام مندر عوام کے لیے کھل جائیگا
قومی خبریں

رام مندر عطیات تنازعہ کے درمیان چمپت رائے اور انل مشرا مستعفی

by Qaumi Tanzeem
جون 28, 2026
پونے میں مراٹھا امیدواروں کی مبارکباد تقریب کے دوران بی جے پی ایم پی کو اگلی صف میں بیٹھنے سے روکا گیا
قومی خبریں

پونے میں مراٹھا امیدواروں کی مبارکباد تقریب کے دوران بی جے پی ایم پی کو اگلی صف میں بیٹھنے سے روکا گیا

by Qaumi Tanzeem
جون 27, 2026
مذہبی شناخت ظاہر کرنے کا حکم مذہب کی آڑ میں سیاست کا کھیل۔مولانا ارشد مدنی
قومی خبریں

بلڈوزر انصاف نہیں انتقام اور نفرت کی سیاست کی علامت ۔مولانا ارشد مدنی

by Qaumi Tanzeem
جون 26, 2026
Next Post
چندریان-3   کا چاند کی طرف سفر شروع 

چندریان-3 کا چاند کی طرف سفر شروع 

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Recommended

صرف رام کا نام لینے سے کام نہیں چلے گا، ان کی تعلیمات پر عمل بھی کرنا ہوگا۔تیجسوی

تیجسوی پرساد یادو کا ’ریشو شری ٹینڈر گھوٹالہ‘ کو لے کر این ڈی اے حکومت پر سخت حملہ

4 گھنٹے ago
گجرات میں مساجد، درگاہوں اور دیگر مذہبی املاک کے انہدام کے معاملے پر جمعیۃ علماء ہند سرگرم

گجرات میں مساجد، درگاہوں اور دیگر مذہبی املاک کے انہدام کے معاملے پر جمعیۃ علماء ہند سرگرم

4 گھنٹے ago

Popular News

    Connect with us

    Categories

    • aaa
    • اتر پردیش
    • ادبیات
    • انٹرٹینمنٹ
    • بہار
    • تعلیم و روزگار
    • خواتین
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • عرب ممالک
    • قومی خبریں
    • کھیل
    • About
    • Advertise
    • Terms & Conditions
    • Grievance
    • Letter to Editor
    • Contact

    © 2023 Qaumi Tanzeem - Urdu Daily Newspaper Qaumitanzeem

    No Result
    View All Result
    • صفحہ اول
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
      • بہار
    • عرب ممالک
    • عالمی خبریں
    • ادبیات
    • تعلیم و روزگار
    • کھیل
    • خواتین
    • انٹرٹینمنٹ
    • हिंदी समाचार

    © 2023 Qaumi Tanzeem - Urdu Daily Newspaper Qaumitanzeem