پٹنہ میں کانگریس کے صوبائی دفتر صداقت آشرم پر ’بی جے پی‘ کارکنوں کے حملے نے سیاسی ماحول کو گرما دیا ہے۔ اس واقعے کے بعد کانگریس قیادت نے بی جے پی پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اور اس کے وزرا کی سرپرستی میں پارٹی کے کارکنوں نے دفتر پر دھاوا بولا، گیٹ توڑ ڈالا اور کانگریسی کارکنوں کو لہولہان کیا۔
راہل گاندھی نے ایک بیان میں کہا کہ ’’سچ اور عدم تشدد کے آگے جھوٹ اور تشدد کبھی ٹک نہیں سکتے۔ جتنا مارو، توڑو، ہم سچ اور آئین کی حفاظت کرتے رہیں گے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ان کی ووٹر ادھیکار یاترا عوام کے جمہوری حق کی بقا کی جدوجہد ہے اور اس سے کسی بھی قسم کی طاقت انہیں روک نہیں سکتی۔
کانگریس ترجمان پون کھیڑا نے کہا کہ بی جے پی کے ایجنٹ جان بوجھ کر کانگریس کی ریلیوں میں گھس کر غلط نعرے لگاتے ہیں تاکہ عوامی توجہ ہٹائی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہی لوگ پہلے سینیٹری نیپکن ایشو پر فوٹو شاپ کے ذریعے پکڑے گئے تھے، اب ان کی گھبراہٹ انہیں ہمارے آشرم میں غنڈہ گردی پر مجبور کر رہی ہے لیکن ملک دیکھ رہا ہے اور ان کی یہ حرکتیں نہیں چلیں گی۔‘‘
سینئر کانگریس لیڈر پرمود تیواری نے کہا کہ بی جے پی نے آج جمہوریت کو بدنما کر دیا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ صداقت آشرم وہ تاریخی مقام ہے جہاں آزادی کی تحریک میں اہم کردار ادا کیا گیا اور ملک کے پہلے صدر ڈاکٹر راجندر پرساد نے آئین کو تسلیم کیا تھا۔ ان کے مطابق ’’بی جے پی کے لوگوں نے اسی تاریخی مقام کو خون آلود کر دیا اور پولیس نے ان کی بھرپور مدد کی۔