ہندوستانی ریلوے نے وندے بھارت ایکسپریس میں کھانے کے معیار کے حوالے سے بڑی کارروائی کی ہے۔ ریلوے نے اپنی ہی کمپنی ’انڈین ریلوے کیٹرنگ اینڈ ٹورازم کارپوریشن‘ (آئی آر سی ٹی سی) پر 10 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا ہے۔ یہ کارروائی پٹنہ سے ٹاٹا نگر جانے والی وندے بھارت ایکسپریس میں کھانے کے معیار سے متعلق ملنے والی شکایت کے بعد کی گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق 15 مارچ 2026 کو ٹرین نمبر 21896 پٹنہ-ٹاٹانگر وندے بھارت ایکسپریس میں ایک مسافر نے کھانے کے معیار کے حوالے سے شکایت درج کرائی تھی۔ ریلوے نے اس شکایت کو سنجیدگی سے لیا اور تحقیقات کے بعد کارروائی کی گئی۔ ریلوے نے آئی آر سی ٹی سی پر 10 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا ہے۔ اس کے علاوہ متعلقہ ’سروس پرووائڈر‘ پر 50 لاکھ روپے کا جرمانہ لگایا گیا ہے۔ ساتھ ہی اس کمپنی کا معاہدہ ختم کرنے کے احکامات بھی جاری کر دیے گئے ہیں۔
ریلوے کے ترجمان نے کہا کہ مسافروں کی حفاظت اور انہیں ملنے والی خدمات کا معیار ہماری اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قسم کی لاپرواہی یا طے شدہ معیار کی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی۔ ہندوستانی ریلوے اپنے وسیع نیٹورک کے ذریعے ہر روز لاکھوں مسافروں کو خدمات فراہم کرتا ہے۔ آئی آر سی ٹی سی کے ذریعے روزانہ 15 لاکھ سے زائد مسافروں کو کھانا فراہم کیا جاتا ہے، جسے دنیا کے سب سے بڑے آن بورڈ فوڈ آپریشنز میں سے ایک مانا جاتا ہے۔
ریلوے کا کہنا ہے کہ اتنے بڑے نیٹورک میں معیار برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ اسی لیے جب بھی کسی قسم کی شکایت سامنے آتی ہے، تو اس پر فوری کارروائی کی جاتی ہے۔ اس واقعے کے بعد ریلوے نے واضح کر دیا ہے کہ مسافروں کی سہولت اور حفاظت کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ کھانے کے معیار میں کمی پائے جانے پر ذمہ دار ایجنسیوں کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں گے۔ یہ کارروائی ان تمام سروس فراہم کرنے والوں کے لیے بھی ایک پیغام ہے کہ مسافروں کو بہتر سہولیات فراہم کرنا ان کی ذمہ داری ہے۔ ریلوے نے کہا ہے کہ مستقبل میں بھی اس طرح کی شکایتوں پر نظر رکھی جائے گی اور ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔















