دربھنگہ ضلع کے جالے بلاک سے جاری ایک خط ان دنوں ریاست کی سیاست میں بھونچال مچا رہا ہے۔ راشٹریہ جنتادل (آر جے ڈی) کے آفیشیل ایکس ہینڈل سے پوسٹ کیے گئے خط نے بہار حکومت کے ارادوں پر ہی سوال کھڑے کر دیے ہیں۔ آر جے ڈی نے لکھا کہ ’’بہار میں این ڈی اے کے رہنما اور عہدیداروں کو رشوت دے کر ووٹ خریدنے اور اقتدار حاصل کرنے کی اتنی جلدی تھی کہ بہت بڑی غلطی کر بیٹھے۔ انہوں نے خواتین کے بجائے مردوں کے اکاؤنٹس میں ہی 10-10 ہزار روپے بھیج دیے۔
آر جے ڈی نے پوسٹ میں مزید لکھا کہ ’’اب مردوں کو 10 ہزار روپے واپس کرنے کے لیے لَو لیٹر لکھے جا رہے ہیں۔ بہار میں بھوک، مہنگائی، ہجرت اور بے روزگاری اس قدر پھیلی ہوئی ہے کہ یہ پیسے جس وقت ڈالے ہوں گے اسی وقت خرچ ہو گیا ہوگا۔ بے چارے مرد اب یہ قرض کی رقم بالکل بھی نہیں لوٹائیں گے، کیونکہ پہلے ان کا ووٹ لوٹاؤ۔‘‘
کانگریس نے بھی بہار حکومت کے ارادوں پر سوال اٹھایا ہے۔ کانگریس کے ریاستی ترجمان رشی مشرا نے کہا کہ ’’انتخاب کے درمیان مردوں اور عورتوں کے درمیان خواتین کاروباریوں کے نام پر 10 ہزار روپے تقسیم کرنا حکومت کے ارادوں کو واضح طور پر بے نقاب کرتا ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’اب جبکہ حکومت کا مقصد حاصل ہو گیا ہے، تو اب حکومت حکم جاری کر اور تکنیکی خرابی کا حوالہ دیتے ہوئے کہہ رہی ہے کہ جن مردوں کے کھاتوں میں پیسے گئے ہیں وہ اب رقم واپس کریں۔
حکومت پر چوطرفہ حملہ ہوتے دیکھ جنتادل یونائٹیڈ (جے ڈی یو) بچاؤ میں اتر آئی ہے۔ جے ڈی یو کے ریاستی ترجمان کشور کنال نے کہا کہ ’’بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی قیادت میں ریاستی حکومت کے ذریعہ مہیلا روزگار یوجنا کے تحت ایک کروڑ 56 لاکھ خواتین کو 10 ہزار کی امدادی رقم دی گئی ہے۔ یہ رقم خواتین کو باختیار بنانے اور اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کے مقصد سے دیا گیا تھا۔‘‘
کشور کنال نے مزید کہا کہ ’’حال کے دنوں میں تکنیکی خامیوں کی وجہ سے کچھ اندراجات غلط پائی گئیں، جس کے سبب کچھ مردوں کے کھاتوں میں یہ رقم چلی گئی تھی، ان سے پیسہ واپس لینے کے لیے خط بھیجا گیا ہے۔ ایسے معاملوں کی تعداد صرف 50 سے 60 ہے، جبکہ ایک کروڑ 56 لاکھ خواتین کو یہ امدادی رقم صحیح طریقے سے دی گئی ہے۔













