بھوٹان میں برفانی جھیل (گلیشیئل جھیل) ’سنتافو‘ کے پھٹنے سے اچانک پانی باہر نکلنے کے بعد کئی علاقوں میں تباہی مچ گئی ہے۔ اس کے اثرات ہندوستان کے مغربی بنگال اور آسام تک پہنچنے کا خدشہ ہے، اس لیے مجموعی طور پر اب تک 15 ہزار لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔ خاص طور سے مغربی بنگال کے علی پور دوار میں انتظامیہ نے بڑے پیمانے پر راحت اور بچاؤ مہم شروع کر دی ہے۔ اس ضلع میں ہی تقریباً 10 ہزار لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔ ان لوگوں کو اسکولوں اور راحتی کیمپوں میں ٹھہرایا گیا۔
سنتافو برفانی جھیل پٹھنے کے بعد حکومت ہند نے فوری طور پر مغربی بنگال اور آسام کے کچھ حصوں کے لیے ایک خصوصی ایڈوائزری جاری کی ہے، جس میں الرٹ کیا گیا ہے کہ سنکوش ندی کی آبی سطح میں اچانک شدید اضافہ ہو سکتا ہے۔ آسام کے دھبری ضلع کے علاوہ شمالی بنگال کے کچھ حصوں، جن میں دارجیلنگ کی پہاڑیاں اور علی پوردوار کے علاوہ جلپائی گوڑی بھی شامل ہیں، میں بھی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔
سنتافو پھٹنے کا یہ واقعہ جمعرات کی شام پیش آیا۔ یہ برفانی جھیل بھوٹان کے گاسا ضلع واقع لنگو (لایا گیووگ) میں وکیلا پہاڑ کے نیچے موجود ہے۔ ندی کے کنارے رہنے والے لوگوں کو الرٹ کرنے کے لیے سائرن بجائے گئے اور متاثرہ علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو محفوظ مقامات پر پہنچا دیا گیا۔ سنتافو جھیل پھٹنے کا واقعہ کتنا بڑا ہے اور اس کا نشیبی علاقوں پر کیا اثر پڑے گا، یہ فوری طور پر واضح نہیں ہوا ہے۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ سنتافو جھیل بھوٹان کی ان 17 جھیلوں میں سے ایک ہے، جنھیں ممکنہ طور سے خطرناک مانا جاتا ہے۔

















