نئی دہلی: خاتون صحافیوں شاہین اور نفیسہ کے ساتھ دہلی پولیس کی مبینہ بدسلوکی کا معاملہ ایک بار پھر سیاسی بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ کانگریس کے سینئر رہنما اجے ماکن نے ’ایکس‘ پر ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور دہلی پولیس پر سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سوال پوچھنے والوں کو حراست میں لیا جا رہا ہے، جبکہ زیادتی کرنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر تک درج نہیں کی جا رہی۔
اجے ماکن نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ پولیس پر بربریت کے سوال اٹھانے والوں کو حراست میں بھیجا جاتا ہے، لیکن قصوروار اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج نہیں کی جاتی۔ انہوں نے کہا کہ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے بھی مرکزی وزیر داخلہ سے براہ راست سوال کیا ہے کہ ’’آپ اور آپ کی پولیس خواتین سے ڈرتی کیوں ہے؟
ماکن کے مطابق 2 اکتوبر کو جنتر منتر پر 700 سے زیادہ افراد کو حراست میں لیا گیا، جبکہ اگلے روز بھی تقریباً 150 افراد کو حراست میں لیا گیا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ خاتون مظاہرین نے پولیس پر بدسلوکی اور مارپیٹ کے الزامات عائد کیے، جبکہ خاتون صحافیوں کو مبینہ طور پر گھسیٹا گیا اور ان کے مائیک چھین لیے گئے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ تین خاتون صحافیوں کی جانب سے جنسی ہراسانی کی شکایت دی گئی، لیکن 5 اکتوبر تک اس معاملے میں ایف آئی آر درج نہیں ہوئی تھی۔
اجے ماکن نے صحافیوں شاہین خان اور نفیسہ خان کے حوالے سے کہا کہ دونوں نے الزام لگایا ہے کہ 3 ستمبر کو ساکیت تھانے کے اندر ان کے ساتھ مارپیٹ کی گئی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ساکیت تھانے کی مکمل سی سی ٹی وی فوٹیج عوام کے سامنے لائی جائے۔ ماکن نے کہا کہ دہلی پولیس مرکزی وزارت داخلہ کے ماتحت ہے، اس لیے اس معاملے کا جواب امت شاہ کو دینا ہوگا۔

















