بھوپال: مدھیہ پردیش میں معمول سے کم بارش کے باعث زرعی سرگرمیاں شدید متاثر ہو رہی ہیں۔ ریاستی کانگریس کے صدر جیتو پٹواری نے کہا ہے کہ مدھیہ پردیش کے 48 اضلاع میں خشک سالی جیسے حالات پیدا ہو گئے ہیں اور دھان، سویابین اور مکئی کی فصلیں بارش کی کمی اور کیڑوں کے حملوں کی وجہ سے تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہیں۔ انہوں نے ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا کہ کسانوں کی فوری امداد کے لیے خصوصی راحتی پیکیج کا اعلان کیا جائے۔
جیتو پٹواری نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ ریاست کے کئی علاقوں میں بارش نہ ہونے سے فصلوں کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ ان کے مطابق جبل پور میں دھان کے کھیتوں میں دراڑیں پڑ چکی ہیں، جبکہ اجین ڈویژن میں سویابین کی فصل پر سنڈیوں کے حملے نے کسانوں کی محنت کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو صرف موسم کی بہتری کا انتظار نہیں کرنا چاہیے بلکہ اپنی ذمہ داری بھی ادا کرنی چاہیے تاکہ کسانوں کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔
جیتو پٹواری نے فصل بیمہ کے معاملہ میں بھی حکومت کو نشانہ بنایا اور کہا کہ کسانوں کے بیمہ دعووں کی ادائیگی فوری طور پر کی جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت اس کے لیے واضح وقت کی حد مقرر کرے تاکہ کسانوں کو بروقت مالی مدد مل سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ممکنہ زرعی نقصان کی تلافی کے لیے حکومت پیشگی راحتی پیکیج جاری کرے، کیونکہ بحران بڑھنے کے بعد کیے گئے اقدامات سے کسانوں کی مشکلات کم نہیں ہوں گی۔
جیتو پٹواری نے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ آج کسان صرف آسمان کی طرف نہیں بلکہ حکومت کی طرف بھی امید بھری نگاہوں سے دیکھ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو بحران شدت اختیار کرنے کا انتظار کرنے کے بجائے پہلے ہی کسانوں کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے تاکہ زرعی شعبے کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔














