مہاراشٹر ایک بار پھر سیاسی ہلچل کی وجہ سے سرخیوں میں ہے۔ شیوسینا یو بی ٹی میں بغاوت کی قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ پارٹی کے کچھ اراکین پارلیمنٹ اس وقت مہاراشٹر میں ہیں، اور کچھ دہلی میں۔ ان حالات میں پارٹی لیڈر سنجے راؤت نے نئی دہلی واقع اپنی رہائش پر پریس کانفرنس کی۔ میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے سنجے راوت نے کہا کہ یہ ’آپریشن ٹائیگر‘ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’میڈیا کے ذریعہ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہمارے ساتھ یہاں یو بی ٹی کے لوک سبھا لیڈر اروند ساونت، چیف وہپ انل دیسائی اور ناسک کے رکن پارلیمنٹ راجابھاؤ موجود ہیں۔ میں اب بھی یہ مانتا ہوں کہ ہمارے تمام اراکین پارلیمنٹ ہمارے ساتھ ہیں۔‘‘
سنجے راؤت نے واضح کیا کہ ان کی پارٹی کے کچھ اراکین پارلیمنٹ ممبئی میں ہیں جبکہ کچھ دہلی میں موجود ہیں۔ لیکن اس تعلق سے کسی بھی طرح کے اندیشہ کو انھوں نے نظر انداز کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ ’دھنش اور بان‘ کا انتخابی نشان شیوسینا کا تھا، ادھو ٹھاکرے کا تھا۔ ہم اس نشان کے لیے سپریم کورٹ بھی گئے تھے۔ باغی اراکین پارلیمنٹ کو کھلی وارننگ دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’’ایک نے سائیں بابا کی قسم کھائی، ایک نے ماں بھوانی کی قسم کھائی، ایک نے اپنی ماں کی قسم کھائی اور ایک دیگر نے اپنی ماں و بیٹی کی قسم کھائی۔ اس کے باوجود اگر کوئی شیوسینا چھوڑ کر گیا تو ہم اسے نہیں چھوڑیں گے۔


















