کانگریس نے مودی حکومت کے 12 سالہ دور اقتدار کی ناکامی کو شمار کرانے کے لیے ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کیا۔ میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے اے آئی سی سی میڈیا کی تحقیق اور نگرانی کے انچارج امیتابھ دوبے نے کہا کہ ’’نریندر مودی نے آج اہل وطن کو تحفہ دیا ہے۔ اب اجولا یوجنا کے تحت لوگوں کو سبسڈی والے صرف 4 سلنڈر ملیں گے، جبکہ پہلے 9 سلنڈر ملا کرتے تھے۔ اس سے لوگوں کے لیے چولہا جلانا تک مشکل ہو جائے گا۔
‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’نریندر مودی نے ایک دعوے میں کہا تھا کہ ہندوستان دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت بنے گی اور 2024 تک 5 ٹریلین ڈالر کی اکانومی بن جائے گی۔ لیکن آج حقیقت یہ ہے کہ 4 ٹریلین ڈالر سے کم کی اکانومی ہو گئی ہے اور ہندوستان چھٹی معیشت پر کھسک گیا ہے۔‘‘
کانگریس لیڈر مزید کہتے ہیں کہ ’’ڈالر کے مقابلے روپیہ مسلسل گر رہا ہے، جس کا براہ راست اثر ہندوستان کی معیشت پر پڑ رہا ہے اور ایک گہرا معاشی بحران پیدا ہو رہا ہے۔ حال ہی میں جی ڈی پی کا گروتھ ریٹ 7.7 فیصد بتایا گیا تھا، لیکن ملک پھر بھی جی ڈی پی ٹارگٹ حاصل کرنے میں مسلسل ناکام ہو رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کار باہر جا رہے ہیں۔ خود ہندوستان کے صنعت کار ملک کے بجائے بیرون ملک سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ ملک کی معیشت پر مودی حکومت کی پالیسیوں کا اثر ہے۔


















