نئی دہلی: جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر پروفیسر سلیم انجینئر نے منی پور میں بڑھتے ہوئے تشدد کے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کے واقعات سنگین انسانی بحران اور شہری آزادیوں کی پامالی کی عکاسی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ منی پور انتظامیہ تشدد پر لگام لگانے کے لیے فوری اور مؤثر کارروائی کرے ۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے پروفیسر سلیم انجینئر نے کہا کہ گھر کے اندر دو کمسن بچوں کا درد ناک قتل، مظاہروں کے دوران شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکتیں نہایت افسوسناک ہیں ۔اس سے انتظامیہ کی ناکامی ظاہر ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ذمہ دار کوئی بھی ہو اس طرح کے واقعات کی سخت الفاظ میں مذمت کی جانی چاہیے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مظاہرین کے خلاف سکیورٹی فورسز کی جانب سے طاقت کا ضرورت سے زیادہ استعمال سے سکیورٹی کے مقررہ اصولوں کی پاسداری پر سنجیدہ سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ضروری ہے کہ تشدد کے تمام واقعات کی آزاد، غیر جانبدارانہ اور مقررہ مدت میں تحقیقات کرائی جائیں تاکہ جوابدہی کو یقینی بنایا جا سکے اور عوام کا اعتماد بحال ہو۔
پروفیسر سلیم انجینئر نے مزید کہا کہ ریاست کی میتئی، کوکی ، زو اور ناگا برادریوں تک تشدد کا پھیل جانا ایک خطرناک صورت حال ہے اور یہ باہمی اعتماد کے ٹوٹنے کی نشاندہی کرتا ہے۔ کرفیو کا مسلسل نفاذ اور انٹرنیٹ سروسز کی معطلی اگرچہ سکیورٹی اقدامات کے طور پر کی گئی ہے، تاہم ان پابندیوں سے معلومات تک رسائی ، زمینی حالات سے آگاہی اور شہری آزادیوں پر سنگین اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقات میں تاخیر اور قصوار وار افراد کے خلاف کوئی کارروائی نہ ہونے سے عوام کے اندر غم و غصہ اور بداعتمادی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ شہری علاقوں میں بھاری ہتھیاروں اور مسلح کارروائیوں کے بڑھتے استعمال نے عام شہریوں کو مزید غیر محفوظ بنا دیا ہے۔
جماعتِ اسلامی ہند کے نائب امیر نے کہا کہ یہ صورت حال ان سنگین مسائل کی بھی عکاسی کرتی ہے جو 2023 میں شروع ہونے والے تشدد کے بعد سے اب تک حل نہیں کئے جا سکے ہیں ۔ مسائل حل نہ ہونے کی وجہ سے بڑی تعداد میں ہلاکتیں اور ہزاروں افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ تشدد کا پھیلاؤ، مختلف متضاد بیانیے اور باہمی الزامات مزید تقسیم اور عدم استحکام کا باعث بن رہے ہیں۔ سلیم انجینئر نے کہا کہ یہ ضروری ہے کہ کسی بھی برادری کو اجتماعی طور پر مورد الزام نہ ٹھہرایا جائے، کیونکہ اس سے کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے۔ حکومت کو فوری اقدامات کرتے ہوئے تمام برادریوں کے تحفظ کو یقینی بنانا چاہیے اور قانون کی بالادستی کو منصفانہ اور غیر جانبدارانہ طریقے سے قائم کیا جانا چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ منی پور کی موجودہ صورت حال سے نمٹنے کے لیے صرف سکیورٹی اقدامات کافی نہیں ہیں۔ اس کے لیے ایک جامع حکمت عملی کی سخت ضرورت ہے جس میں پر تشدد واقعات کی شفاف تحقیقات، شہری آزادیوں کی بحالی اور سول سوسائٹی و برادری کے نمائندوں کے ساتھ بامعنی مکالمہ شامل ہو۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ کشیدگی میں مزید اضافے کو روکنے کے لیے بات چیت، مفاہمت اور اعتماد سازی کے اقدامات کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
جماعت اسلامی ہند حکام سے مطالبہ کرتی ہے کہ شفافیت کو یقینی بنایا جائے، آئینی حقوق کا تحفظ کیا جائے اور معمولات زندگی کی بحالی کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔ پائیدار امن صرف انصاف، جوابدہی اور انسانی وقار و شہری آزادیوں کے احترام سے ہی ممکن ہے۔
















