کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے پنجاب کے برنالہ میں ’کسان مہاچوپال‘ سے خطاب کرتے ہوئے دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کو ہدف تنقید بناتے ہوئےکہا کہ’’کسی کے رونے دھونے سے کام تھوڑی چلے گا۔ آپ کو ناانصافی کے خلاف لڑنا ہے تو راہل گاندھی جی جیسے لڑو۔‘‘۔دراصل آبکاری پالیسی گھوٹالہ معاملہ میں عدالت سے بری قرار دیے گئے کیجریوال عوام سے خطاب کے دوران جذباتی ہو گئے تھے اور ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے تھے۔ کیجریوال کے اس انداز کو کھڑگے نے ’ڈھونگ‘ قرار دیا اور کہا کہ کیجریوال بھی نریندر مودی کی طرح ڈھونگی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’وہ رو رو کر کہہ رہے ہیں کہ میری عزت چلی گئی اور میں بہت نیک آدمی ہوں۔ اگر آپ نیک آدمی ہیں تو آپ کو بولنے کی ضرورت نہیں ہے، ملک کی عوام ہی بول دے گی۔‘‘ ساتھ ہی وہ کہتے ہیں کہ ’’آج جس طرح کیجریوال بول رہے ہیں، ویسے ہی مودی بھی پہلے بولتے تھے۔ یہ لوگ ڈھونگی ہیں، آپ لوگ ان کے پیچھے جائیں گے تو ملک برباد ہو جائے گا۔
لوگوں کی جمع زبردست بھیڑ سے خطاب کے دوران کھڑگے نے مرکز کی مودی حکومت اور پنجاب کی عآپ حکومت کو خوب کھری کھوٹی سنائی۔ انھوں نے کہا کہ پنجاب کی عآپ حکومت بی جے پی کی ’بی ٹیم‘ ہے۔ یہ لوگ کبھی کسانوں یا مزدوروں کی لڑائی میں شامل نہیں ہوئے۔ پنجاب کے نظامِ قانون پر سوال اٹھاتے ہوئے کھڑگے نے کہا کہ آج گروؤں کی اس زمین پر گولیاں چل رہی ہیں، لوگ غیر محفوظ ہیں۔ تاجروں کو سرعام دھمکیاں مل رہی ہیں اور امت شاہ و ریاستی حکومت دونوں ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں۔ انھوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر پنجاب حکومت مضبوط ہے تو نشہ کا جال کیوں ختم نہیں ہو رہا؟
عوام سے مخاطب ہوتے ہوئے کھڑگے نے کہا کہ ’’پنجاب کے لوگوں کو بڑی لڑائی لڑنی ہے۔ انھیں 2 محاذ پر جنگ لڑنی ہے، مودی حکومت سے بھی لڑنا ہے اور پنجاب کی عآپ حکومت سے بھی۔‘‘ وہ آگے کہتے ہیں کہ ’’انگریزی حکومت میں پنجاب کی زمین پر ملک کا پہلی بڑی کسان تحریک 1907 میں سردار اجیت سنگھ کی قیادت میں چلی اور کامیاب رہی تھی۔ شہید اعظم بھگت سنگھ اسی زمین کے بیٹے تھے۔ ان کا خواب تھا کہ کسانوں و مزدوروں کی زندگی بہتر ہو، انھیں استحصال سے آزادی ملے۔ بھگت سنگھ نے کہا تھا– تمھاری بھلائی اسی میں ہے کہ تم مذہب، رنگ، نسل اور تفریق کو مٹا کر متحد ہو جاؤ۔ لیکن مودی حکومت ان کی سوچ کے برعکس کام کرتے ہوئے ملک کے کسانوں و مزدوروں کو تباہ کرنے میں مصروف ہے۔


















