سیکورٹی ایجنسیوں نے جموں و کشمیر میں بے نامی اکاؤنٹ کا استعمال کر کے منی لانڈرنگ کرنے والے ایک گینگ کا پردہ فاش کیا ہے۔ یہ گمنام اکاؤنٹس انٹرنیشنل فراڈ کرنے والے گینگ کے ’ہتھیاروں‘ میں سے ایک ہے۔ ان اکاؤنٹس کا استعمال بنیادی طور پر سائبر فراڈ کے لیے کیا جاتا تھا۔ حالانکہ سیکورٹی ایجنسیوں کو ڈر ہے کہ مختلف عسکریت پسند گروپ اور علیحدگی پسند قوتیں بھی ان اکاؤنٹس کا استعمال ملک مخالف سرگرمیوں کے لیے مالی مدد فراہم کرنے کے لیے استعمال کر سکتی ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ 3 سالوں میں افسران کو جموں و کشمیر میں ایسے 8000 گمنام اکاؤنٹس ملے ہیں۔ ان اکاؤنٹس کو پہلے ہی منجمد کر دیا گیا ہے۔ ہندی نیوز پورٹل ’ٹی وی 9 بھارت ورش‘ پر شائع خبر کے مطابق گمنام اکاؤنٹس سائبر فراڈ کی دنیا میں ’سب سے کمزور، لیکن سب سے اہم کڑی‘ ہیں۔ کیونکہ ان اکاؤنٹس کی مدد کے بغیر مجرمانہ رقم کو کرپٹو کرنسی میں تبدیل کرنا تقریباً ناممکن ہے۔
ایسے گمنام اکاؤنٹ کو ’میول اکاؤنٹ‘ کہا جاتا ہے۔ سائبر فراڈ کرنے والے عام طور پر اپنے نام کے اکاؤنٹ کا استعمال نہیں کرتے، بلکہ مجرمانہ رقم کو مختلف جگہوں پر منتقل کرنے کے لیے کسی تیسرے شخص کے اکاؤنٹ کا سہارا لیتے ہیں۔ وہ پکڑے جانے کے خطرے سے بچنے کے لیے ان گمنام اکاؤنٹ کا استعمال کرتے ہیں۔ زیادہ تر معاملوں میں دھوکے باز کسی شخص کو کچھ فائدے یا کمیشن کا لالچ دے کر اس کے بینک اکاؤنٹ کا استعمال اس جرم کے لیے کرتے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق مرکزی سیکورٹی ایجنسی نے اس بارے میں جموں و کشمیر پولیس اور دیگر فورسز کو پہلے ہی متنبہ کر دیا ہے۔ ان سے کہا گیا ہے کہ وہ بینکوں کے رابطے میں رہیں تاکہ گمنام اکاؤنٹ کو بڑھنے سے روکا جا سکے اور ان افراد کی شناخت کی جا سکے جن کے اکاؤنٹس استعمال کیے جا رہے ہیں۔

















