نئی دہلی :لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے جانکاری دی ہے کہ اس مرتبہ لوک سبھا کی پروڈکٹویٹی 118 فیصد رہی ہے جبکہ راجیہ سبھا کی پروڈکٹویٹی 119 فیصد رہی۔ دونوں ایوانوں میں خاص طور سے وقف (ترمیمی) بل اور منی پور میں صدر راج کی تجویز پر لمبی بحث ہوئی۔ لوک سبھا میں مرکزی وقف قانون میں ترمیم پر 13.53 گھنٹے بحث ہوئی اور بل کو صبح 2 بجے کے بعد منظوری ملی۔ راجیہ سبھا میں بھی اس بل پر 12.49 گھنٹے بحث ہوئی اور تقریباً ڈھائی بجے منظوری دی گئی۔
یہ اجلاس 31 جنوری کو صدر مرمو کے خطبہ سے شروع ہوا تھا، جو کہ 16 بلوں کو منظوری دینے کے بعد ختم ہوا۔ اس کے برعکس 2024 کے سرمائی اجلاس میں لوک سبھا اور راجیہ سبھا کی پروڈکٹویٹی بالترتیب 52 فیصد اور 39 فیصد رہی تھی اور صرف ایک بل پاس ہو سکا تھا۔
اوم برلا نے اپنے اختتامی خطبہ میں بتایا کہ لوک سبھا نے اس اجلاس کے دوران 26 میٹنگیں کیں اور کل 160 گھنٹے اور 48 منٹ کام کیا۔ راجیہ سبھا نے 159 گھنٹے کام کیا۔
اس اجلاس میں صدرجمہوریہ کے خطاب، بجٹ اور وقف بل پر لمبی بحثیں ہوئیں۔ حکومت نے حزب مخالف کے اہم مدعوں پر کسی بھی بحث کو نامنظور کر دیا۔ حزب مخالف نے انتخابی شناختی کارڈ (EPIC) نمبر کے دوہراؤ پر بحث کا مطالبہ کیا تھا لیکن اسے خارج کر دیا گیا۔ حزب اختلاف کے رہنماؤں کے ذریعہ کئی مرتبہ تحریک التوا پیش کی گئی، لیکن اسے نظر انداز کر دیا گیا۔ ایوان میں بحث کا دائرہ صرف سرکاری معاملوں تک ہی محدود رہ گیا۔
اجلاس کی شروعات میں اپوزیشن پارٹیوں کے EPIC نمبر کے دوہراؤ پر بحث کی مانگ کو لے کر کارروائی میں رخنہ پڑا، جس سے لوک سبھا میں 21.15 گھنٹے کام نہیں ہو سکا، حالانکہ پارلیمنٹ نے اوور ٹائم بیٹھ کر اس نقصان کی بھرپائی کرلی۔ اجلاس میں کئی اہم بلوں کو پاس کیا گیا جن میں فائنانس بل 2025، ایپروپریشن بل 2025، تروبھون سہکاری یونیورسٹی بل 2025، وقف (ترمیمی) بل 2025 اور امیگریشن اینڈ فارینرس بل 2025 شامل ہیں۔
اوم برلا نے بتایا کہ اجلاس کے دوران 134 اسٹارڈ سوالات کے جواب زبانی طور سے دیے گئے اور وقفہ صفر میں 691 عوامی اہمیت کے معاملے اٹھائے گئے۔ 3 اپریل 2025 کو ریکارڈ 202 معاملوں کو اٹھایا گیا۔ اجلاس میں کل 566 معاملے ضابطہ 377 کے تحت اٹھائے گئے۔مرکزی وزیر کرن رجیجو نے کہا کہ وقف بل پر بحث راجیہ سبھا میں 17 گھنٹے 2 منٹ تک چلی جو راجیہ سبھا کی کارروائی میں ایک نیا ریکارڈ ہے۔ رجیجو نے کہا، ’’یہ ایک اہم سنگ میل ہے۔ 1981 میں جب پارلیمنٹ نے ایسینشیل سروسز مینٹیننس ایکٹ (ESMA) پر بحث کی تھی، تب یہ ریکارڈ بنا تھا۔ اب وقف ترمیمی بل اور منی پور قرار داد پر 17 گھنٹے 2 منٹ کی بحث ہوئی ہے، جسے توڑنا بے حد مشکل ہے۔‘