دہلی کے مالویہ نگر علاقے میں اروناچل پردیش سے تعلق رکھنے والی تین نوجوان طالبات کے ساتھ مبینہ نسلی بدسلوکی کا معاملہ سامنے آیا ہے، جس کے بعد سیاسی ردعمل بھی تیز ہو گیا ہے۔ یہ تینوں لڑکیاں ایک کرائے کے فلیٹ میں رہتی ہیں اور ان میں سے ایک یونین پبلک سروس کمیشن کی تیاری کر رہی ہے۔
اطلاعات کے مطابق فلیٹ میں ایئر کنڈیشنر لگوانے کے دوران ڈرلنگ سے پیدا ہونے والی کچھ دھول نیچے والی منزل کی بالکنی میں جا گری۔ اس بات پر نیچے رہنے والے ہرش سنگھ اور ان کی اہلیہ روبی جین نے اعتراض کیا اور معاملہ تکرار تک پہنچ گیا۔ واقعے کی ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر زیر گردش ہے، جس میں لڑکیوں کے ساتھ نازیبا اور توہین آمیز زبان استعمال کی جا رہی ہے۔
ویڈیو میں مبینہ طور پر طالبات کو نسلی القابات سے پکارا گیا، ان کے کردار پر سوال اٹھائے گئے اور انہیں اپنے آبائی ریاست واپس جانے تک کی بات کہی گئی۔ بعض جملوں میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ متعلقہ شخص ایک سیاست دان کا بیٹا ہے اور اس بنیاد پر دھمکی آمیز لہجہ اختیار کیا گیا۔ سوشل میڈیا پر ان بیانات کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور اسے شمال مشرقی ریاستوں سے آنے والے شہریوں کے ساتھ امتیازی سلوک کی ایک اور مثال قرار دیا جا رہا ہے۔
کانگریس نے اس معاملے پر ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ یہ محض انفرادی بدسلوکی نہیں بلکہ اختیارات کے غلط استعمال کا معاملہ ہے۔ پارٹی کے مطابق اگر کسی کو سیاسی سرپرستی کا احساس ہو تو ایسے رویوں کو تقویت ملتی ہے۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ ملک بھر میں شمال مشرقی علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو نسلی تعصب اور امتیازی سلوک کا سامنا رہتا ہے، جو تشویش ناک ہے۔
















